ٹرمپ کا خطرناک مجرموں کے لیے بدنامِ زمانہ الکاٹراز جیل دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا خطرناک مجرموں کے لیے بدنامِ زمانہ الکاٹراز جیل دوبارہ کھولنے کا فیصلہ
کیپشن: ٹرمپ کا خطرناک مجرموں کے لیے بدنامِ زمانہ الکاٹراز جیل دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے خطرناک ترین مجرموں کو قابو میں رکھنے کے لیے بدنام زمانہ الکاٹراز جیل کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی ایسے مجرموں کو عام معاشرے سے مکمل طور پر علیحدہ رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر پوسٹ کرتے ہوئے وفاقی بیورو آف پرزنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ سان فرانسسکو کے قریب واقع تاریخی الکاٹراز جیل کو دوبارہ تعمیر کر کے فعال کریں۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: "جب ہم ایک سنجیدہ قوم تھے، تو ہم نے سب سے خطرناک مجرموں کو جیل میں بند رکھنے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوبارہ وہی پختہ رویہ اپنائیں۔"

الکاٹراز جیل، جو کہ 1963 میں بند کر دی گئی تھی، اپنے وقت کی سب سے سخت سیکیورٹی والی جیل سمجھی جاتی تھی۔ یہاں پر مشہور گینگسٹر "آل کیپون" سمیت کئی سنگین جرائم پیشہ افراد کو قید رکھا گیا تھا۔ جزیرے پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے فرار ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور اس کی سخت نگرانی اور بلند اخراجات کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں یہ ایک سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کر گیا۔

فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے تصدیق کی کہ یہ ابتدائی طور پر صرف ایک تجویز تھی، جس پر اب سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کو جدید، محفوظ اور سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیارات پر مبنی بنایا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

تاہم، ان کے اس اعلان نے سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین اسے ایک سیاسی چال جبکہ حامی اسے قانون نافذ کرنے کے سخت اقدامات کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ منصوبہ حقیقی شکل اختیار کرتا ہے یا محض انتخابی بیانیہ ثابت ہوتا ہے۔

Watch Live Public News