27ویں آئینی ترمیم  کا مقصد پاکستان میں گورننس، دفاع، صوبوں کیساتھ رشتوں کو مضبوط کرنا  ہے

27ویں آئینی ترمیم  کا مقصد پاکستان میں گورننس، دفاع، صوبوں کیساتھ رشتوں کو مضبوط کرنا  ہے

(ویب ڈیسک ) آئینی ترمیم کا مقصد پاکستان میں گورننس، دفاع اور وفاق کے صوبوں کے ساتھ رشتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

 آئینِ پاکستان ایک زندہ دستاویز(Living Document) ہے، جس میں اب تک 26 ترامیم کی جاچکی ہیں۔ وقت اور حالات کے مطابق عوامی سہولت، ملکی مفاد اور بہتری کے لیے جب بھی ضرورت پیش آئی، آئین میں مناسب ترامیم کی گئیں۔

 26ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ دیکھا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام سے سپریم کورٹ کے مقدمات کے فیصلوں میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، اب بھی انہی آئینی بینچ کے ججز پر دیگر کیسز کی سماعت کا بوجھ ہے ۔ اسی لیے یہ بحث چل رہی ہے اور یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ ایک الگ آئینی عدالت قائم کی جائے اور آئینی نوعیت کے مقدمات الگ طور پر نمٹائے جائیں، عدالتوں پر دباؤ کم ہو، اور عوام کو فوری انصاف مل سکے۔  

مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ گو آئینی نوعیت کے مقدمات کا حجم سول، فوجداری اور متفرق مقدمات کی نسبت بہت کم ہے مگر ان مقدمات سے جڑے پیچیدہ قانونی نکات حل کرنے کے لئے بے تحاشا وقت درکار ہوتا ہے۔ 

 آئینی مقدمات صرف 10 فیصد ہوتے ہیں جبکہ وہ عدالت کا 50 فیصد وقت لے جاتے ہیں۔

  پاکستان بھر کی منتخب وکلاء قیادت کی اکثریت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی اور حالیہ انتخابات میں بھی انہی  لوگوں کی کامیابی اس بات کی غمازی ہے کہ وکلاء برادری نظام کی بہتری چاہتی ہے نہ کہ کسی سیاسی گروہ کی پسند نہ پسند۔ 

اسی تسلسل میں 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی وکلاء قیادت سے بھی مشاورت کی جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ عدل و انصاف کے نظام کو مزید مؤثر کیسے بنایا جاسکے۔

وکلاء سیاست میں سرگرم پی ٹی آئی حامی قیادت نے 26 ویں ترمیم پر تنقید کو سیاسی اور انتخابی بیانیے کے طور استعمال کیا اور حالیہ سپریم کورٹ باراورصوبائی بارکونسلزکے انتخابات کےنتائج نے واضح کر دیا کہ وکلاء نے اس سیاسی بیانیہ کو قبول نہیں کیا۔ 

اس ضمن میں ججز کی ٹرانسفر کے حوالے سے یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو یہ اختیار بھی دیا جائے۔ چونکہ جوڈیشل کمیشن پہلے ہی ججز کی تقرری کا مجاز ادارہ ہے۔ 

 یہ کمیشن نہ صرف تقرری کا اختیار رکھتا ہے بلکہ اس میں وکلا، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ طبقات کی نمائندگی بھی شامل ہے، جس سے اس عمل میں شفافیت، توازن اور ادارہ جاتی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

موجودہ ترامیم کےذریعےجو اصلاحات کی جائیں گی اس سے نہ صرف  عدالتی نظام میں بہتری آئے گی  بلکہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی، مقدمات کے بوجھ میں کمی اور عدالتی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

آرٹیکل 243 کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان نے بھارت کو حال ہی میں ایک جنگ میں شکست دی اور پاکستان نے اپنی عسکری برتری بھارت پر واضح کر دی اور پوری دنیا نے اس کا اعتراف کیا۔ 

جدید دور میں جنگ کا انداز تبدیل ہوچکا ہے - اب لڑائیاں صرف میدان میں نہیں بلکہ سائبر، انفارمیشن، اور ڈیجیٹل سپیس میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ آرٹیکل 243 کے حوالے سے ملکی سالمیت اور دفاع کو مضبوط  کیا جائے اور مزید ہم آہنگی پیدا کی جائے اور یہ جنگ جیتنے کے بعد مستقبل میں افواجِ پاکستان کو  جنگ لڑنے کے حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے مزید مضبوط کیا جائے۔

 خطے میں دوسرے ملکوں نے بھی اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے حوالے سے مختلف ترامیم کی ہیں جس سے ان کی افواج اور ان کے دفاعی نظام کو تقویت ملی ہے اور ان کو حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔ 

 چونکہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے اس ضمن میں اس پر غیر ضروری بحث اور قیاس آرائی کرنا نامناسب ہے۔اسی لیے ہمیں نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر قیاس آرائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔مگر ملکی دفاع کو مضبوط کرنے اور تقویت دینے کے لیے پاک کرنے کے لیے پاکستان کو اقدامات کرنے چاہیئں اور اپنے دفاع کو مکمل طور پر مضبوط بنانا چاہیے ۔

حالیہ فتح میں پاکستان نے نہ صرف اپنے سے چار گناہ بڑے بھارت کو شکست دی بلکہ جب مغربی سرحد پر افغانستان کی طرف سے دراندازی کی گئی تو اس کا بھی منہ توڑ جواب دے کر سرحد کو محفوظ بنایا گیا۔

 مجسٹریسی نظام کی بحالی بھی زیر غور ہے۔ اس تجویز کا مقصد عدالت کے وقت کو بچانا، انتظامی امور سے متعلقہ معاملات انتظامیہ کے حوالے کرنا اور پرائس کنٹرول سے لے کر امن عامہ تک ان معاملات کو  انتظامیہ کی مؤثر نگرانی میں دینا ہے۔ بہت سی جگہوں پر جرائم کا   نیکسز دہشتگردی کے ساتھ ہوتا دیکھا گیا ۔ اس تجویز میں اسی نیکسز کو توڑنا اور دہشتگردی و جرائم  کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنا ہے۔

 تعلیم کو وفاق میں لانے کا مقصدملک میں یکساں نظام تعلیم کا فروغ ہے۔ ملک کے اندر یونیفائیڈ نیشنل سلیبس   کا اطلاق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یکساں نظام تعلیم ہی رائج ہے۔ یکساں نظام تعلیم سے نہ صرف تعلیم کا معیار بہتر ہوگا بلکہ شرح خواندگی میں بھی واضح فرق آئےگا ۔

 اسی طرح بہبود آبادی کے حوالے سے در پیش مسائل کا حل بھی ایک یکساں نظام میں موجود ہے۔ پورے ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے یکساں پالیسی کا اطلاق ناگزیر ہے ۔ 

 وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پورے ملک میں آبادی سے متعلقہ مسائل کےحل کے لیے وفاق اور تمام صوبے مل کر ایک ہی پالیسی بنائیں اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا  جائے۔ صوبوں سے متعلق ان تجاویزکو مشاورت اور سیر حاصل گفتگو کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

Watch Live Public News