ٹرمپ کے ساتھ اختلافات میں شدت، ایلون مسک کی نئی سیاسی پارٹی کا نام سامنے آگیا

ٹرمپ کے ساتھ اختلافات میں شدت، ایلون مسک کی نئی سیاسی پارٹی کا نام سامنے آگیا

ویب ڈیسک:ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے اہم انتخابی مالی مددگار ایلون مسک کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات نے ہفتہ کو ایک نیا رخ اختیار کرلیا،   ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے ایک نیا سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے اپنی ایکس پوسٹ میں اپنے پیروکاروں سے پوچھا تھا کہ کیا امریکا میں نئی سیاسی جماعت بننی چاہیے؟ ہفتے کو انہوں نے اعلان کیا کہ ’آج، امریکا پارٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے تاکہ آپ کو آپ کی آزادی واپس دی جاسکے‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’دو کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے آپ نئی سیاسی جماعت چاہتے ہیں، اور اب وہ آپ کو ملے گی!‘۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل ٹرمپ نے اپنے خود ساختہ ’ بگ بیوٹی فل‘ ٹیکس کٹوتی اور اخراجات کے بل پر دستخط کیے تھے، جس کی ایلون مسک نے سخت مخالفت کی تھی۔

ایلون مسک پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ نئی سیاسی جماعت بنائیں گے،  کیونکہ امریکی صدر کے دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی ’محکمہ سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری‘ کی سربراہی کی, مگر اب دونوں کے درمیان اس بل پر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔

مسک کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بل کی حمایت کرنے والے ارکانِ کانگریس کو شکست دینے کے لیے مالی وسائل استعمال کریں گے۔

تاہم ابھی تک امریکہ پارٹی کی باقاعدہ رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، اور یہ واضح نہیں کہ آیا پارٹی نے امریکا کے انتخابی حکام کے ساتھ رجسٹریشن کرائی ہے یا نہیں۔

 مسک نے پارٹی کی قیادت اور اس کے عملی ڈھانچے کے بارے میں بھی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مسک کے اس اعلان کے بعد اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکا پارٹی حقیقی طور پر امریکی سیاسی منظر پر ایک نیا دور لانے میں کامیاب ہو پائے گی؟ اس وقت تک امریکا کے انتخابی حکام کی جانب سے کوئی دستاویزات نہیں دیکھی گئی ہیں جو اس پارٹی کی رجسٹریشن کی تصدیق کریں۔

Watch Live Public News