مخالفین عید کے بعد حملے کا کہہ رہے،اب مفاہمت نہیں مزاحمت کی سیاست ہوگی، خواجہ آصف

مخالفین عید کے بعد حملے کا کہہ رہے،اب مفاہمت نہیں مزاحمت کی سیاست ہوگی، خواجہ آصف
کیپشن: مخالفین عید کے بعد حملے کا کہہ رہے،اب مفاہمت نہیں مزاحمت کی سیاست ہوگی، خواجہ آصف

ویب ڈیسک: وزیردفاع اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مخالفین عید کے بعد حملے کا کہہ رہے ہیں۔ وہ پہلے بھی تین چار مرتبہ حملے کرچکے ہیں۔ اب مفاہمت نہیں مزاحمت کی سیاست ہوگی۔

خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہم نے شروع نہیں کی تھی۔مشرف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں کی تھی۔ امریکا نے دہشتگردی کا نام لیکر عراق، لیبیااور افغانستان میں جنگ لڑی۔ ہم سب سے بڑے دہشتگردی کا شکار ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستان فرنٹ لائن پر لڑرہاہے ۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہم نے دہشتگرد کو امریکا کے حوالے کیا تو کیا ہوا؟افغانستان میں امریکا نے ہائی ٹیک اسلحہ چھوڑا۔ امریکا کہہ رہاہے کہ اسلحہ واپس لے رہاہے تو اچھی بات ہے۔ امریکی اسلحے سے دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین نے مفاہمت کی کوئی بات کی ؟تین چار مرتبہ حملے کرچکے ہیں اور عید کے بعد دوبارہ حملے کا کہہ رہے ہیں۔اب مفاہمت کی بجائے مزاحمت کی سیاست ہوگی۔ کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ملبہ خود بھی اٹھائے ۔پارا چنار کے حالات سب کے سامنے ہیں وہ تو ہمارے زیرانتظام نہیں۔ 

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پہلے یہاں خطوط بازی کی ۔پھر عالمی درجہ دیا۔خطوط کا حشر جو پہلے ہوا وہ ہی اب ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی کو کوئی سیاسی نہیں بلکہ جادو مشورہ دے سکتا ہے ۔جنرل باجوہ، بانی پی ٹی آئی اور جنرل فیض  نے طالبان کو پاکستان میں بسانے کا فیصلہ کیا۔یہ تینوں کا مشترکہ فیصلہ تھا،اسمبلی کی کارروائی میں میرا مؤقف موجود ہے۔پرویز خٹک کو صوبے سےوفاق میں لانے کے بعد خیبرپختونخواہ میں لوٹ مار کی گئی۔

Watch Live Public News