(ویب ڈیسک ) کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ مودی کو پہلگام حملے سے 3 دن پہلے حملے کی رپورٹ مل گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق پہلگام فالس فلیگ کی ناکامی کے بعد میڈیا، عوام اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے مودی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، مودی اور اس کے میڈیا کی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال پہلگام فالس فلیگ کی تنقید کو نہیں روکا جاسکا ہے۔
انڈیا ٹو ڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے نے مودی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی نے پہلگام حملے سے تین دن قبل انٹیلیجنس رپورٹ کے بعد اپنا مجوزہ دورہ کشمیر منسوخ کیا، انٹیلی جنس رپورٹ ہونے کے باوجود مودی نے خود تو بچا لیا مگر سیاحوں کو بچانے کیلئے کچھ بھی نہ کیا۔
ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ اگر انٹیلی جنس الرٹ یہ بتا سکتی ہے کہ وزیراعظم کا جانا محفوظ نہیں، تو پھر سیاحوں اور مقامی شہریوں کو کیوں خطرے میں چھوڑا گیا؟، 22 اپریل کو ملک میں پیش آنے والا دہشت گرد حملہ ایک بڑی انٹیلی جنس ناکامی تھی، حکومت نے اس ناکامی کو تسلیم تو کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حملے کا اندیشہ پہلے سے تھا تو پیش بندی کیوں نہ کی گئی؟۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق 24 اپریل کو آل پارٹیز اجلاس میں مرکزی حکومت نے پہلگام حملے میں سکیورٹی کی خامیوں کو تسلیم کیا، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس بیورو نے تصدیق کی کہ پہلگام میں سکیورٹی کی خامیاں موجود تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھارتی اخبار ڈیکن کرونیکلز بھی پہلگام واقعہ میں سکیورٹی کی خامیاں کی نشاندہی کرچکا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق اطلاعات تھیں کہ مودی جب کاترا سے سرینگر ٹرین سروس کا افتتاح کرینگے تو حملہ ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس کے صدر کے الزامات سے تصدیق ہوتی ہے کہ مودی کو اپنی عوام سے زیادہ اپنی جان پیاری ہے، اگر اس طرح کے سکیورٹی الرٹ موجود تھے تو کیوں سیاحوں کی حفاظت کیلئے سکیورٹی تعینات نہ کی گئی، اب وقت آگیا ہے کہ مودی سرکار اور انٹیلیجنس بیورو کو کٹہرے میں لا کر پہلگام واقعہ کی تحقیقات کی جائیں۔