بھارت : اتر پردیش میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی، اقلیتی حقوق اور سماجی ہم آہنگی پر سوالات

بھارت : اتر پردیش میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی، اقلیتی حقوق اور سماجی ہم آہنگی پر سوالات

(ویب ڈیسک) اتر پردیش اسلامو فوبیا کا مرکز بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے لیے تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ کی فرقہ وارانہ بیان بازی نے ریاست بھر میں مذہبی تشدد کو معمول بنا دیا ہے۔

مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ ملک میں اقلیتی حقوق کمزور ہو رہے ہیں اور قومی بیانیے میں ان کے کردار کو محدود کیا جا رہا ہے۔

بڑی اقلیتی آبادی کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو روکنے میں حکومتی اور ریاستی اداروں کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شدت پسند رجحانات کے خلاف مؤثر اقدامات کی کمی ہے۔

بھارت کے مسلم حکمرانوں کو “حملہ آور” قرار دینے کا رجحان سامنے آ رہا ہے، جسے بعض حلقے مغلیہ دور کی تاریخی میراث کو کم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

ہندوؤں کو منظم انداز میں مظلوم کے طور پر پیش کیے جانے کے بیانیے سے سماجی تقسیم میں اضافہ اور مذہبی تناؤ بڑھنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

سیاسی گفتگو میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے جہاں اعلیٰ سطح پر مسلم مخالف بیانات کو معمول کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ریاستی سطح پر تقسیم پیدا کرنے والے بیانیے کو تقویت ملنے کے الزامات ہیں، جبکہ سینئر قیادت کے بیانات بعض اوقات سلامتی کے خدشات اور مذہبی تعصب کے درمیان فرق کو دھندلا دیتے ہیں۔

ریاستی خاموشی کو بعض مبصرین اس طرح دیکھتے ہیں کہ اس سے متنازع بیانیے کو بالواسطہ منظوری ملتی ہے، اور نوجوان نسل زیادہ نظریاتی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے۔

آئینی کثرتیت کے بجائے فرقہ وارانہ اشارے غالب آ رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے خدشات کو اکثر “بیرونی مداخلت” قرار دے کر رد کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں سماجی ڈھانچہ متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔

Watch Live Public News