ویب ڈیسک: (شکیل خٹک)چیمئنز ٹرافی میں افغانستان کرکٹ کے خلاف بائیکاٹ کے معاملے میں نئی پیشرفت سامنے آگئی۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے افغانستان کےخلاف میچ کے بائیکاٹ کے یک طرفہ فیصلے سے انکار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کے سیاستدانوں اور اراکین پارلیمنٹ نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے نام خط لکھ دیا۔ جیریمی کاربن اور نایئجل فراگ سمیت 160 سے زائد اراکین نے افغانستان کےخلاف انگلینڈ کے میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔ خط میں افغانستان میں خواتین کےحقوق کی خلاف ورزی پر چیمپئنز ٹرافی میں افغانستان کےخلاف میچ کےبائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ای سی بی کو 26 فروری کو افغانستان کےخلاف گروپ میچ کھیلنے سے انکارکرنا چاہیے۔ میچ کا بائیکاٹ ظلم کےخلاف عدم برداشت کا یہ واضح پیغام ہوگا۔ہمیں جنسی تفریق کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ہم ای سی بی سے گزارش کرتے ہیں کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی اور امید کا مضبوط پیغام دیں۔
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں مؤقف اپنایا ہے کہ افغانستا ن کےخلاف میچ کے بائیکا ٹ کا یک طرفہ فیصلہ نہیں کرسکتے۔ای سی بی چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے کہا کہ اس حوالے سےتمام ممبرز ممالک کے ساتھ ایک مشترکہ فیصلے کی حمایت کریں گے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ طالبان کے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک کی سخت مذمت کرتا ہے۔ای سی بی آئی سی سی سے اس حوالے سے مزید اقدامات کی فعال طور پر حمایت کرےگا۔ایک مربوط آئی سی سی سطح کا اقدام انفرادی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوگا۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کرکٹ بہت سے افغان اور بےگھر افغانیوں کے لیے امیدکا ایک ذریعہ ہے۔ہم تبدیلی کے ممکنہ راستے کےلئے برطانوی حکومت،آئی سی سی اور دیگر اسٹیک ہولڈرزکے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھیں گے۔
برطانوی ڈیپارٹمنٹ آف کلچر اور میڈیا نے بھی افغانستان میں خواتین کے حقوق پر تحفظات کا اظہارکردیا۔ترجمان ڈیپارٹمنٹ آف کلچر اینڈ میڈیاکا کہنا ہے کہ چیمئنز ٹرافی میں شرکت آئی سی سی اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کا کام ہے۔افغان خواتین کرکٹ ٹیم کے حوالے سے ای سی بی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔