ویب ڈیسک: امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کی عدالت کی جانب سے 'ہش منی' کیس میں سنائی گئی سزا کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کےمطابق اس کیس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران فحش فلموں کی اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز کو خاموش رہنے کے لیے رقم ادا کی اور اس ادائیگی کو چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی کی۔
نیویارک کے جج جوآن مرچن نے 10 جنوری کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے، تاہم اشارہ دیا ہے کہ ٹرمپ کو جیل کی سزا نہیں دی جائے گی بلکہ انہیں 'غیر مشروط ڈسچارج' ملے گا، جس کا مطلب ہے کہ جرم ثابت ہونے کے باوجود جیل نہیں بھیجا جائے گا اور ممکنہ طور پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سیاسی حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر مذمت کی اور اسے غیر قانونی اور آئین کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس سے سزا کے مؤخر ہونے کا امکان ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کی حلف برداری میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، اور وہ مجرم قرار پانے کے باوجود صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے۔