ویب ڈیسک: صدر آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر جپاروف نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
کرغزستان کے چار روزہ سرکاری دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں گزشتہ سال دسمبر میں طے پانے والے دوطرفہ معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے، مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کو فعال بنانے اور توانائی کے شعبے میں تعاون، خصوصاً کاسا-1000 منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل، صحت، ادویات سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، سیاحت، بینکاری اور مالیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور کرغزستان نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ روابط مضبوط بنانے، پاکستان کی بندرگاہوں سے استفادہ اور خطے میں تجارتی رابطوں کے فروغ پر بھی اتفاق کیا۔
ملاقات میں دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور سائبر کرائم کے خلاف مشترکہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جبکہ اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) سمیت بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔
وفود کی سطح پر مذاکرات سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کو تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری میں تعاون کے نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مناسب قیمتوں پر اپنی مصنوعات کرغزستان کو برآمد کرنے کا خواہاں ہے۔