جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، شمالی کوریا کا دوٹوک اعلان

جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، شمالی کوریا کا دوٹوک اعلان
کیپشن: جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، شمالی کوریا کا دوٹوک اعلان

ویب ڈیسک: شمالی کوریا کی بااثر رہنما اور سربراہ مملکت کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے واضح کیا ہے کہ ملک کی جوہری طاقت کی حیثیت اور ایٹمی پروگرام کسی بھی صورت مذاکرات کا موضوع نہیں بن سکتے۔

سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق کم یو جونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری حیثیت "ناقابلِ مذاکرات" ہے اور قومی سلامتی سے متعلق بنیادی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سات برسوں میں یہ ان کا شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہوگا، جسے خطے کی سفارتی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کم یو جونگ نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب بھی شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار کرانے کی پالیسی پر قائم ہے، تاہم یہ مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے ان امریکی دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ حالیہ چین-امریکا سربراہی ملاقات کے دوران شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ ہدف پر اتفاق کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ دعوے حقائق کے برعکس ہیں اور غلط معلومات پر مبنی ہیں۔ شمالی کوریا نے 2023 میں اپنی جوہری حیثیت کو آئینی تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔ 

دوسری جانب کم جونگ اُن نے ایک بڑے اسلحہ ساز کارخانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے میزائلوں اور دیگر دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں اضافے کی ہدایت جاری کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق کم یو جونگ کا حالیہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کے بین الاقوامی دباؤ یا شرائط پر مبنی مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں اور اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا اقوامِ متحدہ کی متعدد پابندیوں کے باوجود اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو مسلسل فروغ دے رہا ہے، جس پر امریکا، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر مغربی اتحادی ممالک بارہا تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔





Watch Live Public News