ویب ڈیسک:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس پر وسیع پیمانے پر پابندیاں اور محصولات (ٹیرِف) عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، یہ اقدام یوکرین پر روس کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کےمطابق روس کے نئے حملوں کے بعد امریکہ میں سخت اقدامات کے مطالبات بڑھ گئے ہیں، ٹرمپ، جو پہلے مذاکرات کے حامی تھے، اب ماسکو کے خلاف مزید سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
ممکنہ پابندیاں روسی مالیاتی لین دین، برآمدات اور دفاعی صنعت کو محدود کر سکتی ہیں، روسی مصنوعات پر زیادہ محصولات (ٹیرِف) لگانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے,یورپی رہنماؤں نے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے تاکہ روس پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جا سکے۔
حالات کو مدنظررکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اب روس پر بڑے پیمانے پر پابندیاں اور ٹیرِف لگانے پر غور کیا جارہا ہے، اور یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ پابندیاں اور ٹیرف تب تک رہیں گے جب تک یوکرین میں جنگ بندی اور امن معاہدہ طے نہیں پاتا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے روس پر مزید بڑے پیمانے پر اقتصادی پابندیاں، بینکنگ پابندیاں اور ٹیرف لگانے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
روس یوکرین پر شدید حملے کر رہا ہے، جس کے باعث سخت اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، فوری جنگ بندی اور حتمی امن معاہدہ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
اپنے ٹویٹ میں ٹرمپ نےروس اور یوکرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مذاکرات کی میز پر آ جائیں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
