ویب ڈیسک: دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آلودگی، شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے کئی پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ تازہ عالمی تحقیقات کے مطابق ان عوامل کا ایک سنگین اثر مردوں کی تولیدی صحت پر پڑ رہا ہے، اور گزشتہ چند دہائیوں میں مردوں کے اسپرم کی تعداد اور معیار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ غیر متوازن خوراک، موٹاپا، سگریٹ نوشی اور ذہنی دباؤ پہلے ہی اس مسئلے سے منسلک سمجھے جاتے رہے ہیں، لیکن اب ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت مردانہ زرخیزی کے نئے بڑے خطرات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
فورٹس اسکارٹس اسپتال فرید آباد کے ڈاکٹر نیتی کاٹش کا کہنا ہے کہ“مردوں کی نسل بڑھانے کی صلاحیت صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے سیارے کی مجموعی صحت کی عکاسی ہے۔ جیسے جیسے دنیا گرم ہو رہی ہے، زرخیزی کے پوشیدہ خطرات بڑھ رہے ہیں جنہیں سمجھنا مستقبل کی نسلوں کے لیے ناگزیر ہے۔”
فضائی آلودگی — ایک خاموش خطرہ
تحقیق بتاتی ہے کہ فضائی آلودگی میں موجود ننھے ذرات جیسے پی ایم 2.5 اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ خون میں شامل ہو کر اسپرم کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہارمونی توازن بگاڑ دیتے ہیں۔
2022 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ آلودہ علاقوں میں رہنے والے مردوں کے اسپرم کی حرکت پذیری میں واضح کمی دیکھی گئی، جب کہ چین اور اٹلی میں کیے گئے مطالعے کے مطابق ایسے علاقوں کے مردوں کے اسپرم کا معیار دیہی علاقوں کے مقابلے میں 15 سے 25 فیصد کم تھا۔
گرمی اور درجہ حرارت میں اضافہ — زرخیزی کے لیے نیا چیلنج
ماہرین کے مطابق، درجہ حرارت میں معمولی اضافہ بھی اسپرم کی پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔
جرنل آف تھرمل بائیولوجی میں شائع رپورٹ کے مطابق، اگر جسم کے مخصوص حصے کا درجہ حرارت صرف ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ جائے تو اسپرم کی حرکت اور مقدار میں 40 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
گرم شہروں میں مسلسل ہیٹ ویوز کی شدت نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ 2024 میں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر گیا، جسے ماہرین مردوں کی تولیدی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں۔
دوہرا خطرہ: آلودگی اور گرمی
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی 2023 کی ایک تحقیق کے مطابق، وہ مرد جو طویل عرصے تک آلودگی اور گرمی کے زیرِ اثر رہتے ہیں، ان کے اسپرم میں ڈی این اے نقصان اور ہارمونی عدم توازن زیادہ پایا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی اور درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی، نیند کی کمی اور ناقص خوراک جیسے عوامل بھی مردانہ زرخیزی کو متاثر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، اس رجحان کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والے برسوں میں بانجھ پن عالمی سطح پر ایک بڑا ماحولیاتی و طبی بحران بن سکتا ہے۔