ویب ڈیسک: شرم الشیخ میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے حماس، اسرائیل اور ثالث فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا۔ مصری شہر میں ہونے والی اس نشست میں حماس کے سینئر مذاکرات کار خلیل الحیہ کی قیادت میں وفد شریک رہا، جب کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی بات چیت میں موجود تھے۔ قطر اور مصر کے وفود نے ثالثانہ کردار ادا کیا اور رات دیر تک مذاکرات جاری رہے۔
فلسطینی عہدیداروں کے مطابق حماس نے مذاکرات میں یرغمالیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور انخلا کی ایک واضح ٹائم لائن سے متعلق اپنا موقف پیش کیا۔ عرب میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ حماس نے کچھ سرکردہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد پہنچانے کے مطالبات اٹھائے، اور اس شرط کے تحت معاہدے کی پاسداری کی ضمانت چاہی۔ حماس یہ بھی چاہتی ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے فوراً بعد معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ابتدائی طور پر مذاکرات میں صرف یرغمالیوں کی رہائی پر توجہ دی جائے گی اور حماس کو صورت حال کو سنبھالنے کے لیے چند روزہ وقفہ دیا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کے طے کردہ منصوبے کے تحت فوری طور پر فوج کو مکمل طور پر پیچھے نہیں بلایا جائے گا بلکہ ابتدا میں ایک اسٹرٹیجک بفر زون یا نام نہاد حفاظتی حد قائم کی جائے گی تاہم مزید انخلا مزاحمتی تنظیم کی جانب سے طے شدہ شرائط کی تکمیل پر مشروط ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ یرغمالیوں کی جلد از جلد رہائی کے حامی ہیں تاکہ مذاکرات اگلے مرحلے میں منتقل ہو سکیں۔ مذاکرات میں یرغمالیوں اور سیاسی قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے پر بھی بات چیت جاری رہی تاکہ رہائی کے لیے موزوں سیاسی اور سکیورٹی ماحول تیار کیا جا سکے۔ اس دوران امریکی صدر نے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے تیزی سے پیش رفت کریں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ اگر حماس غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کرتی ہے تو اس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے—ایک بیان جس نے مذاکراتی عمل کی نزاکت اور بین الاقوامی دباؤ کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ شرم الشیخ میں مذاکرات کا اگلا دور آج متوقع ہے، جہاں مزید تفصیلی شرائط اور فنی امور زیرِ غور آئیں گے۔