پاکستانی نژاد جرمن سائنسدان نے زحل کے چاند پر زندگی کے ممکنہ آثار دریافت کر لیے

پاکستانی نژاد جرمن سائنسدان نے زحل کے چاند پر زندگی کے ممکنہ آثار دریافت کر لیے

(ویب ڈیسک ) پاکستانی نژاد جرمنی میں مقیم ماہرِ سیارہ حیاتیات ڈاکٹر نذیر خواجہ نے زحل کے چاند "اینسیلاڈس" کے نیچے موجود سمندر میں ایسے نئے مالیکیولز دریافت کیے ہیں جو زندگی کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں۔

جرمنی کی فری یونیورسٹی برلن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نذیر خواجہ کی قیادت میں کی گئی تحقیق 1 اکتوبر کو سائنسی جریدے "نیچر آسٹرونومی" میں شائع ہوئی۔

ان کی ٹیم نے ناسا کے کیسینی خلائی مشن کے ذریعے جمع کردہ ڈیٹا کا باریک بینی سے تجزیہ کیا اور ایسے پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز کی شناخت کی جو چاند کی سطح سے نکلنے والے برف کے ذرات میں پائے گئے۔ یہ برفانی ذرات اور گیسیں، جو چاند کے جنوبی قطب کے قریب موجود دراڑوں سے خارج ہوتی ہیں، خلا میں بلند ہو کر زحل کے گرد موجود ای رنگ (E ring) کا حصہ بھی بن جاتی ہیں۔

ڈاکٹر خواجہ نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے اس مطالعے میں ایستھرز، ایتھرز، الکینز اور دیگر نامیاتی مرکبات دریافت کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے مختلف اقسام کے نامیاتی مالیکیولز دریافت کیے ہیں جن میں آکسیجن ایٹمز کے پل، سنگل اور ڈبل بانڈز، سیدھی زنجیر والے (الیفیٹک) اور گولائی میں بننے والے (سائکلیک) مالیکیولز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خوشبودار (ایرومیٹک) مالیکیولز، نائٹروجن اور آکسیجن والے مرکبات بھی شناخت کیے گئے ہیں۔"

خلائی زندگی کے امکانات

ڈاکٹر خواجہ کے مطابق یہ مالیکیولز ہمیں چاند کے اندر موجود سمندر میں ہونے والی پیچیدہ کیمیائی سرگرمیوں کی جھلک دکھاتے ہیں۔ ان مرکبات کو زیادہ پیچیدہ اور ممکنہ طور پر حیاتیاتی مالیکیولز (جیسے پیریمیڈینز) کی تشکیل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تمام مالیکیولز بغیر زندگی کے بھی (abiotically) تشکیل پا سکتے ہیں۔

ماہرینِ سیارہ حیاتیات کے مطابق کائنات میں زندگی کے لیے تین بنیادی عناصر ضروری ہیں: مائع پانی، توانائی کا ذریعہ اور مختلف کیمیائی مرکبات۔ حیرت انگیز طور پر، اینسیلاڈس یہ تمام شرائط پوری کرتا ہے، حالانکہ اس کا قطر صرف 505 کلومیٹر ہے۔

کاسمک ڈسٹ (خلائی گرد) کیسے جمع کی جاتی ہے؟  

کیسینی-ہائیگنز مشن نے اکتوبر 1997 میں زمین سے روانہ ہو کر تقریباً 3.5 ارب کلومیٹر کا سفر طے کیا اور چھ سال آٹھ ماہ کے بعد جولائی 2004 میں زحل کے مدار میں داخل ہوا۔  

یہ مشن جدید ترین کاسمک ڈسٹ اینالائزر (CDA) سے لیس تھا، جو ایک بالٹی کی شکل کا آلہ ہے جس میں حساس سینسرز اور اسپیکٹرو میٹرز نصب تھے۔ اس آلے نے فاسفیٹ جیسے مالیکیولز بھی دریافت کیے، جو اینسیلاڈس پر زندگی کے لیے ضروری چھ عناصر (CHNOPS: کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، آکسیجن، فاسفورس، اور سلفر) میں سے پانچ کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔  

جیسے برفباری کے دوران اگر آپ گلاس کو ہوا کے رخ پر رکھیں تو زیادہ برف جمع ہوتی ہے، اسی طرح کیسینی نے بھی زحل کے E رنگ میں 13 سال کے دوران اپنے فلائی بائے کے دوران ہزاروں برفانی ذرات جمع کیے۔ اسپیکٹرو میٹرز نے ان میں موجود مالیکیولز کی شناخت کی اور ڈیٹا زمین پر منتقل کیا۔  

ڈاکٹر خواجہ کے مطابق "اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان نامیاتی مرکبات کو اینسیلاڈس سے خارج ہونے کے چند ہی منٹ بعد جمع کیا گیا، اس لیے یہ خلا کی تابکاری سے متاثر نہیں ہوئے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ مالیکیولز چاند کے اندرونی سمندر سے آئے ہیں، جو اس کی زندگی کے قابل ہونے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔"

محققین کا کہنا ہے کہ کیسینی کے مشاہدات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اینسیلاڈس کے سمندر کی تہہ میں پانی اور چٹانوں کے درمیان وہی کیمیائی تعاملات ہوتے ہیں جو زمین کے سمندروں میں پائے جانے والے ہائڈرو تھرمل وینٹس میں ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اٹلانٹک اوشن میں موجود Lost City Hydrothermal Field ہے، جہاں خوردبینی حیات کی بھرمار ہے۔  

ڈاکٹر خواجہ نے کہا  کہ "ہم ابھی نہیں جانتے کہ اینسیلاڈس پر زندگی موجود ہے، ماضی میں تھی یا نہیں، یا وہاں صرف پری بائیوٹک کیمیا (زندگی سے پہلے کی کیمیائی سرگرمیاں) ہو رہی ہیں۔ لیکن یہ چاند جدید خلائی تحقیق کا سب سے اہم ہدف ہے، اور ہماری حالیہ تحقیق مستقبل کے مشنوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔"

ڈاکٹر نذیر خواجہ کا تعلق پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے شہر وزیرآباد سے ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایسٹرونومی اینڈ اسپیس سائنسز میں ماسٹرز کیا، اور بعد ازاں جرمنی کی ہیڈل برگ یونیورسٹی سے جیوسائنسز میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ وہ اسی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ارتھ سائنسز میں پوسٹ ڈاک ریسرچ بھی کر چکے ہیں۔  

انہوں نے زمین سے باہر زندگی کی تلاش پر وسیع تحقیق کی ہے اور مختلف سائنسی پروگراموں میں ایک معروف نام کے طور پر ابھرے ہیں۔  

2019 میں ناسا نے انہیں کیسینی کے کاسمک ڈسٹ اینالائزر کے لیے "گروپ اچیومنٹ ایوارڈ" سے نوازا۔ اس سے قبل 2018 میں یورپین ایسٹروبیالوجی نیٹ ورک ایسوسی ایشن نے انہیں Horneck-Brack Award سے بھی نوازا تھا۔

ان کے سائنسی مقالے معروف تحقیقی جرائد جیسے نیچر، سائنس اور جرنل آف دی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہو چکے ہیں۔ 

Watch Live Public News