ویب ڈیسک: پنجاب میں ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے متعلقہ اداروں کو گائیڈلائنز جاری کردیں اور سندھ میں کراچی سمیت دیگر شہروں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب میں رواں ماہ درجہ حرارت 4 سے 7 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر جنوبی پنجاب اور میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ سندھ میں بھی کراچی سمیت دیگر شہروں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔گرمی کی موجودہ لہر کی وجہ سے دیہی سندھ کے اضلاع میں دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 5 سے7 ڈگری اضافی ریکارڈ ہوسکتے ہیں ۔
گرم موسم کی لہر کے دوران لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور، کشمور، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی، سکھر، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، خیرپور اور جامشورو اضلاع میں آج اور کل شدید گرمی کی لپیٹ میں رہ سکتے ہیں۔
اسی طرح مغربی لہر کے زیر اثر گردو غبار کے طوفان کے ساتھ جامشورو، دادو، شہید بینظیر آباد میں چند مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی ہوسکتی ہے جب کہ 10 اپریل کو قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد، سکھر اور خیرپور اضلاع میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں 3 روز کے دوران پارہ 34 تا 36 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ہے ۔ اس دوران سمندر کی جنوب مغربی/ مغربی سمت کی ہوائیں چل سکتی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی ہدایات:
پی ڈی ایم اے نے پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے مطابق ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنرز عوامی مقامات پر گرمی سے بچاؤ کے لیے اقدامات یقینی بنائیں۔
ہیلپ لائن نمبرز، مساجد میں اعلانات اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو آگاہ کیا جائے گا۔
تعلیمی ادارے اور بچوں کی حفاظت:
محکمہ سکول ایجوکیشن کو آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے اور اسکولوں میں ہیٹ ویو سے بچاؤ کے بارے فلیکسز لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کسانوں کی آگاہی:
کسانوں کو فصلوں پر ہیٹ ویو کے اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔
پانی کی فراہمی اور صحت کے انتظامات:
لوکل گورنمنٹ عوامی اجتماع والی جگہوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائے گی۔محکمہ لائیو اسٹاک کو ویٹرنری کیئر سینٹرز 24 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہیٹ ویو کی طبی امداد:
موبائل ہیلتھ یونٹس اور میڈیکل کیمپس عوامی مقامات پر لگائے جائیں گے۔اسپتالوں میں ہیٹ ویو کاؤنٹرز قائم کیے جائیں گے اور ابتدائی طبی امداد کے لیے ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔
گھر میں رہنا کیوں ضروری؟
واضح رہے اگر آپ گرمی کی لہر سے بچنا چاہتے ہیں تو جب تک ضروری ہو گھر سے باہر نہ نکلیں۔
گرمی کو کیسے کم کریں؟
پنکھے، کولر، اے سی کے ساتھ گھر کے اندر رہیں۔ اگر یہ چیزیں گھر میں نہیں ہیں تو پردے یا شیڈز رکھیں۔ اس سے آپ گرمی کی لہر کے سنگین خطرات سے بچ سکتے ہیں۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر:
1۔ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
2۔ دھوپ میں سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور ایسی حالت میں وقتاً فوقتاً پانی پیتے رہیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے۔ اس موسم میں روزانہ کم از کم 8-10 گلاس پانی پینے کی کوشش کریں۔ اپنی خوراک میں کافی مقدار میں پھل اور سبزیاں شامل کریں۔
3۔ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھیں، خاص طور پر دل کے عارضہ میں مبتلا افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
4۔ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور دھوپ سے بچیں۔
5۔ اگر باہر گرمی کی لہر تیز ہو تو کبھی بھی بھولے سے بھی خالی پیٹ گھر سے باہر نہ نکلیں۔ ایسا کرنے سے گرمی اور دھوپ کی وجہ سے چکر آ سکتے ہیں۔ اس لیے جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو کچھ کھانے کے بعد ہی کریں۔ تاکہ مسائل سے بچا جا سکے۔
6۔ گرمی اور گرمی کی لہروں کے دوران ضرورت سے زیادہ جسمانی سرگرمی سے بچنے کی کوشش کریں کیونکہ گرمی کے موسم میں بہت زیادہ ورزش کرنے سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔ اس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کی ان ہدایات کا مقصد ہیٹ ویو کے اثرات کو کم کرنا اور شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔