ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چار ہوٹلز کو مخصوص شرائط کے تحت شراب فروخت کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اگرچہ مسلمانوں کے لیے شراب نوشی ممنوع ہے، تاہم قانون کے تحت اس کی تیاری اور فروخت کے لیے محدود پیمانے پر لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چار مقامات پر شراب باضابطہ لائسنس لے کر فروخت کی جاتی ہے۔ اور اس کی شرائط بھی طے ہیں۔ pic.twitter.com/TOycqiJGxb
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) August 8, 2025
جمعہ کے روز وقفہ سوالات کے دوران وزارت داخلہ کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں میریٹ، سرینا، بیسٹ ویسٹرن اور موو اینڈ پک ہوٹلز کو شراب فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ یہ لائسنس مخصوص شرائط اور ضوابط کے تحت دیے جاتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق ایل-ٹو شراب لائسنس کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر ہے، جبکہ سالانہ تجدید کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ لائسنس یافتہ فرد یا اس کا عملہ ایکسائز کمشنر کی جانب سے جاری کردہ تمام احکامات کی پابندی کا پابند ہوگا۔
شرائط کے مطابق ہوٹلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ شراب کو دیگر اشیاء سے الگ رکھا جائے، نئی کھیپ کی آمد پر سات روز کے اندر اور بوتل کھولنے سے 48 گھنٹے قبل متعلقہ ایکسائز افسر کو مطلع کیا جائے۔ مزید یہ کہ ایکسائز افسر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے لائسنس منسوخ کر سکتا ہے۔