ویب ڈیسک: امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بی ایل اے کی دہشت گرد حکمتِ عملی اور سرحد پار روابط کو بے نقاب کر دیا۔
نیشنل انٹرسٹ نے اپنی شائع کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے دہشت گردی کی بدلتی نوعیت کے خطرناک مرحلے کی عکاسی کرتا ہے جسے امریکا نظرانداز نہیں کر سکتا۔ محدود اور منتشر حملوں کو ڈیجیٹل پروپیگنڈا کے ذریعے بڑی کامیابی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی اب روایتی شورش نہیں بلکہ کم لاگت اور زیادہ خوف پھیلانے کا ماڈل بن چکی ہے۔
نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی ایل اے کے پاس علاقہ کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں مگر منتشر گروپس کا نیٹ ورک دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی آوازیں بلوچ دہشت گرد منصوبہ سازوں کا اہم ہتھیار بن رہی ہیں۔
نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کی سرگرمیاں پاکستان سے آگے بڑھ کر پورے خطے کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ایران میں عدم استحکام بی ایل اے جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کی طاقت بڑھا سکتا ہے۔ حکومتی رٹ سے باہر علاقے اور سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس وسطی ایشیا کے اقتصادی راستوں اور امریکا، پاکستان و خطے کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔
نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محفوظ پناہ گاہیں دہشت گردوں کو امریکا اور اس کے شراکت داروں پر حملے کی صلاحیت دے سکتی ہیں۔ بلوچستان میں تشدد کو صرف معاشی محرومی سے جوڑنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ معاشی محرومیاں دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتیں، بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ بی ایل اے کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان، امریکا، برطانیہ اور چین اسے دہشت گرد گروہ قرار دے چکے ہیں۔
نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کے استعمال سے دہشت گردی میں شدت آئی۔ امریکا کو روایتی فوجی امداد کے بجائے نیٹ ورکڈ دہشت گردی پر توجہ دینا ہوگی۔ انٹیلی جنس تعاون، مالیاتی نگرانی اور مضبوط قانونی فریم ورک دہشت گردی کے خلاف مؤثر ہتھیار ہیں۔ پاکستان، وسطی ایشیا اور امریکا کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔