ویب ڈیسک: اطالوی صحافی سیسیلیا سالا ایران میں حراست سے رہا ہونے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگئیں۔ سیسیلیا سالا کو تہران میں 19 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق اطالوی صحافی سیسیلیا سالا کو ایران میں "قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے" اور "غیر قانونی طور پر ایران میں رپورٹنگ کرنے" کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سالا کو ایون جیل میں تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی نے خاتون صحافی کی رہائی کی تصدیق کر دی۔
واضح رہے کہ سیسلیا سالا کو ایک ایرانی تاجر محمد عابدینی کو میلان کے مالپینسا ہوائی اڈے پر مبینہ طور پر ڈرون کے پرزے فراہم کرنے کے الزام میں گرفتاری کے تین دن بعد پکڑ لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے اپنے ایک غیراعلانیہ دورے کے دوران ریاست فلوریڈا کے مارا لاگو میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر رسمی طور ملاقات کی۔
انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والی اطالوی وزیر اعظم میلونی کے دفتر کی طرف سے اتوار پانچ جنوری کی صبح جاری کردہ تصاویر میں میلونی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مارا لاگو کے داخلی دروازے پر ایک ساتھ تصویر بنواتے دکھایا گیا ہے، جب کہ ایک اور تصویر میں وہ ایک استقبالیہ کمرے میں بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم اطالوی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے اس ملاقات کی نہ تو کوئی تفصیل بتائی گئی ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔
واضح رہے کہ بیس جنوری کو اپنےدوسرے غیرمسلسل دورصدارت کے لیے حلف اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والوں میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان اور کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی شامل ہیں۔
انتہائی دائیں بازو کی برادرز آف اٹلی نامی پارٹی کی رہنما میلونی کی یہ ملاقات امریکی صدر جو بائیڈن کے روم کے چار روزہ دورے سے پہلے ہوئی ہے، جہاں ان سے میلونی اور پوپ فرانسس کی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مسٹر ٹرمپ نے مار-اے-لاگو میں ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: یہ بہت پرجوش ہے۔ میں یہاں ایک شاندار خاتون کے ساتھ ہوں، اٹلی کی وزیر اعظم کے ساتھ۔