افسوسناک واقعہ، امیگریشن افسر نے خاتون ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک

افسوسناک واقعہ، امیگریشن افسر نے خاتون ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک

ویب ڈیسک:امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک امیگریشن افسر نے خاتون ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اہلکار نے بدھ کے روز منیاپولس میں ایک خاتون ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک بڑے امریکی شہر میں امیگریشن کے خلاف تازہ ترین کریک ڈاؤن کے دوران پیش آیا۔

وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ اپنے دفاع میں کی گئی، تاہم شہر کے میئر نے اسے لاپروا اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

37 سالہ خاتون کو شہر کے ڈاؤن ٹاؤن کے جنوب میں واقع ایک برف پوش رہائشی محلے میں، اپنے ایک خاندانی رکن کے سامنے سر میں گولی ماری گئی۔ یہ مقام چند بلاکس کے فاصلے پر واقع ان قدیم ترین امیگرنٹ مارکیٹوں کے قریب ہے۔

صبح 9:30 بجے کے بعد ہونے والی اس ہلاکت کو موقع پر موجود گواہوں نے ویڈیو میں ریکارڈ کیا، اور فائرنگ کے فوراً بعد غصے سے بھرے مظاہرین کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔، عوام سے امیگریشن نفاذ کرنے والے اداروں کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی۔

خاتون کا نام رینی نِکول میکلن گُڈ تھا۔ ان کی والدہ نے منیسوٹا اسٹار ٹریبیون کو بتایا کہ متوفیہ کا ایک 6 سالہ بچہ ہے۔ میکلن گُڈ نے سوشل میڈیا پر خود کو ’’ایک شاعرہ، مصنفہ، بیوی اور ماں‘‘ کے طور پر متعارف کرایا تھا، اور وہ کولوراڈو سے تعلق رکھتی تھیں۔

عینی شاہدین کی جانب سے مختلف زاویوں سے بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ ایک اہلکار سڑک کے عین درمیان رکی ہوئی ایک ایس یو وی کے قریب جاتا ہے، ڈرائیور سے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے اور ہینڈل پکڑ لیتا ہے۔ اسی دوران ہونڈا پائلٹ گاڑی آگے بڑھنے لگتی ہے، تو گاڑی کے سامنے کھڑا آئی سی ای کا ایک اور اہلکار اپنا ہتھیار نکالتا ہے اور قریب سے فوراً کم از کم 2 گولیاں گاڑی کے اندر فائر کر دیتا ہے۔

Watch Live Public News