ویب ڈیسک: مودی سرکار پر ایک بار پھر انتخابی عمل کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ بہار میں انتخابات سے قبل ووٹر رجسٹریشن پالیسی میں کی گئی تبدیلیوں نے عوام میں بے چینی کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ووٹر پالیسی میں ایسی پیچیدگیاں ڈال دی گئیں کہ عام ووٹرز چکر کھا جائیں،بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی نے تمام طبقات میں بے چینی پیدا کردی۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق "بہار کے رہائشیوں کو ووٹر رجسٹریشن کیلئے اضافی دستاویزات کی شرط پر شدیدپریشانی کا سامنا کرنا،بہار میں نہ صرف ای بی سیز بلکہ اقلیتوں اور اعلیٰ ذاتوں میں بھی اضافی دستاویزات کی شرط سےپریشان ہیں،نئی ووٹر رجسٹریشن پالیسی نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو بھی گہرے انتظامی جال میں الجھاکررکھ دیا،سہولتوں کی کمی کے باعث ،ساؤرتھ پنچایت سے جمع کرائی گئی 2,200 ڈومیسائل درخواستوں میں سے صرف 150 سرٹیفکیٹس جاری ہو سکے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بہار کے رہائشی کہتے ہیں دستاویزات کے نام پر سب کو ہراساں کیا جا رہا ہے، یہ ناانصافی ہے،ووٹنگ کے لیے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا غیر ضروری عمل ہےجوسب کیلئے تکلیف دہ ہے، رہائشی بہار،بہار کے دیہات جہاں اعلیٰ ذات اکثریت میں ہیں، وہاں بھی رجسٹریشن کی مشکلات بڑھ گئیں،ریاست کی 15 فیصد آبادی میں شامل اعلیٰ ذات اور مسلم ذیلی گروہ رجسٹریشن سے متاثر ہورہے ہیں،انتہائی پسماندہ طبقات، اقلیتیں اور دیگر ووٹرز بھی خصوصی نظرثانی سے پریشان ہیں۔
ساورتھ پنچایت کے حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ 3,000 سے 4,000 ڈومیسائل درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور 40 فیصد واپسی کرنے والوں کے لیے انتخابی فارم اپڈیٹ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
بہار کے ایک اور رہائشی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ روزی کمانا ووٹ دینے سے زیادہ اہم ہے، لوگ بہار سے ہجرت کر چکے ہیں کیونکہ یہاں روزگار میسر نہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق خصوصی نظرثانی پالیسی فوٹوسٹیٹ اور کیفے مالکان کی جیبیں بھرنے کا ذریعہ ہے، عام لوگ اور اعلیٰ ذات دونوں متاثر ہورہے ہیں۔
سابق بہار کانگریس رہنما کرشنا کانت جھاگڈو نے انتخابی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی انتخابی نظرثانی نے آئندہ ریاستی انتخابات کا ماحول خراب کر دیا ہے،این ڈی اے نے خود سیاسی خودکشی کی ہے کیونکہ تمام جماعتوں کے حامی اس عمل سے ناخوش ہیں، ہمیں روزانہ کم از کم 50 شکایات ملتی ہیں، جن میں بی ایل اوز کا تعاون نہ کرنا اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی کمی شامل ہے۔
مودی سرکار کی انتخابی سازش نے بہار کے عوام کا حقِ رائے دہی چھین لیا ہے۔خصوصی نظرثانی کا ڈرامہ صرف عوام کی آزادی کو محدود کرنے اور مودی کےاقتدار بچانے کی چال ہے۔