ویب ڈیسک: امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف نئے حملوں کے بعد ایران نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے متعدد جوابی اقدامات کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقے میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ بحرین اور کویت میں موجود 85 امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنوبی ایران پر امریکی حملے، ایرانی تیل کی مصنوعات پر پابندیاں اور مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں جنگ بندی معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے سیکیورٹی انتظامات کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھونس، دھمکی اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے کا دور گزر چکا ہے اور ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں بھی جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔