ویب ڈیسک: ایران کی مجلس خبرگان نے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر زیادہ تر ارکان کے درمیان اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے۔
رکن محمد میر باقر نے بتایا کہ ارکان کے درمیان حتمی عمل سے متعلق کچھ رکاوٹیں باقی ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اکثریتی ارکان مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے پر متفق ہیں، جسے عوامی پسند اور مرحوم سپریم لیڈر کے طرز عمل کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ ارکان کی مختلف آراء ہیں، لیکن یہ اختلافات مخلصانہ ہیں اور سیاسی مقاصد سے متاثر نہیں۔ باضابطہ اعلان میں تاخیر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ کیا اجلاس بالمشافہ ہو یا موجودہ حالات میں رسمی عمل کے بغیر اعلان کیا جائے۔ آیت اللہ محسن حیدری نے کہا کہ موجودہ حالات میں براہ راست ووٹنگ ممکن نہیں، تاہم امیدوار منتخب کر لیا گیا ہے، جو مرحوم رہنما کی ہدایات کے مطابق دشمن کی ناپسندیدگی کا باعث ہو، نہ کہ تعریف کا۔