بھارت میں اکثریتی سیاست کا دباؤ: اقلیتی خواتین اور ریڑھی بانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا

بھارت میں اکثریتی سیاست کا دباؤ: اقلیتی خواتین اور ریڑھی بانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا

(ویب ڈیسک) بھارت میں اسٹریٹ وینڈرز ( ریڑھی بانوں) کی ایک بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے، مگر غیر قانونی بے دخلی کی کارروائیوں کا سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑتا ہے۔

جون 2025 میں نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹریٹ وینڈرز آف انڈیا (NASVI) نے رپورٹ کیا کہ دہلی جیسے علاقوں میں مسلسل ہراسانی جاری ہے، جہاں حکام نے اسٹریٹ وینڈرز ایکٹ (2014) کے تحت قانونی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی سامان ضبط کیا اور اسٹال مسمار کیے۔

اقلیتوں، خصوصاً مسلم ریڑھی بانوں کو "لینڈ جہاد" یا "فرٹیلٹی جہاد" جیسے بیانیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان بیانیوں کے نتیجے میں منظم معاشی بائیکاٹ سامنے آتے ہیں، جہاں مقامی لوگوں کو اقلیتی دکانداروں سے خریداری نہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے یا انہیں زبردستی روکا جاتا ہے، جس سے خواتین وینڈرز کی آمدن ختم ہو جاتی ہے اور ان کے لیے جسمانی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

خواتین کے خلاف جرائم کی شرح تقریباً 51 شکایات فی گھنٹہ ہے،مگر غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین اکثر انصاف حاصل کرنے کے لیے درکار سماجی وسائل سے محروم ہوتی ہیں۔

اقلیتی خواتین کو اکثر پولیس کی مدد سے محروم رکھا جاتا ہے یا وہ شکایت درج کروانے کی کوشش پر مزید دھمکیوں کا سامنا کرتی ہیں، خاص طور پر مقامی شدت پسند گروہوں کی جانب سے۔

ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین (2025) کی رپورٹس کے مطابق، مسلم اقلیتی وینڈرز، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو عوامی مقامات پر مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا، برہنہ کیا گیا یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسے غیر قانونی سامان کی جانچ کے بہانے کیا گیا۔

خواتین ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنے سے پہلے اکثر آن لائن ڈوکسنگ کی جاتی ہے۔

 سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے مخصوص وینڈنگ علاقوں کو "قبضہ گروہ" یا "درانداز" قرار دیا جاتا ہے، جو مقامی شدت پسند عناصر کے لیے کارروائی یا جبری بندش کا اشارہ بن جاتا ہے۔

Watch Live Public News