طالبان کا گھروں میں قائم بیوٹی پارلرزبندکرنے کاحکم،خواتین بیوٹیشنزمتاثر

طالبان کا گھروں میں قائم بیوٹی پارلرزبندکرنے کاحکم،خواتین بیوٹیشنزمتاثر
کیپشن: طالبان کا گھروں میں قائم بیوٹی پارلرزبندکرنے کاحکم،خواتین بیوٹیشنزمتاثر

ویب ڈیسک:افغانستان میں طالبان حکام نے گھروں میں خفیہ طور پر چلائے جانے والے بیوٹی پارلرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں خواتین بیوٹیشنز اپنا روزگار کھو بیٹھی ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین بیوٹیشنز نے بتایا کہ طالبان اہلکاروں نے متعدد گھروں پر چھاپے مارے، بیوٹی سیلونز کا سامان ضبط کیا اور خواتین کو کام فوری طور پر بند کرنے کے احکامات دیے۔ اس کارروائی کے دوران نہ صرف بیوٹی ٹولز اور میک اپ کا سامان تحویل میں لیا گیا بلکہ خاندان کے مرد افراد سے تحریری معاہدوں پر دستخط بھی کروائے گئے کہ خواتین آئندہ یہ کاروبار نہیں کریں گی۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ کئی خواتین کے موبائل فونز کی بھی تلاشی لی گئی، تاکہ ان کے رابطے اور کلائنٹس کا ڈیٹا معلوم کیا جا سکے۔ بیوٹیشنز کے مطابق طالبان نے واضح دھمکی دی کہ اگر کسی نے دوبارہ بیوٹی پارلر چلانے کی کوشش کی تو اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال طالبان نے افغانستان بھر میں بیوٹی پارلرز پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کے بعد خواتین نے گھروں میں خفیہ طور پر چھوٹے سیلونز قائم کر کے اپنا روزگار جاری رکھا، تاہم حالیہ کارروائیوں سے یہ سلسلہ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

طالبان حکام کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر مزید محدود کرنے کی کوشش ہیں۔

Watch Live Public News