ویب ڈیسک: پاکستان کی تاریخ میں 1971کی پاک بھارت جنگ کی کہانی سیاہ حروف میں لکھی جائے گی۔ 1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیتی یافتہ دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے مجیب الرحمان کے حامیوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان میں بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کیا۔ پاکستانی فوج پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔
1971 کی جنگ میں حصہ لینے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سجاد اختر ملک (ریٹائیرڈ) نے 1971 کی جنگ کی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ: "1971میں جنگ شروع ہوئی تو میں نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا اور دسمبر میں مشرقی پاکستان پہنچا"۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، بھارتی فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز مجیب الرحمان کے ساتھ تھے اور وہ ان کے پیروکاروں کے ساتھ رہتے تھے۔ بھارتی کمانڈوز ہماری دفاعی پوزیشن پر سیاہ رات کی تاریکی میں وار کرتے، سپلائیز روکتے اور خواتین کے ساتھ زیادتیاں کرتے تھے۔ بعض اوقات وہ پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر لوگوں پر حملے کرتے انہیں قتل کرتے اور الزام پاک فوج پر لگا دیتے تھے۔
لیفٹیننٹ کرنل سجاد اختر ملک (ریٹائرڈ) نے کہا کہ پاک فوج بارڈر پرہزاروں میل دور اپنے دفاع میں مصروف تھی، وہ دفاعی حدود سے آگے نہیں جا سکتے تھے، انہوں نے لوگوں کے ساتھ کیسے ظلم کرنے تھے؟ عوام پر جو مظالم ڈھائے گئے، وہ مکتی باہنی کے دہشت گردوں نے مجیب الرحمان کے حامیوں کے ساتھ مل کر کیے اور یہ عالمی سطح پر ثابت شدہ حقیقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر کہ پاکستان کے 90 ہزار فوجی قیدی بنے،یہ صرف ایک جھوٹا پروپیگنڈا تھا۔ ان قیدیوں میں زیادہ تر مقامی صنعتکار اور سویلین تھے۔ مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج نے ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا، ریپ، قتل، اور اردو اسپیکنگ کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کا نام لینے والوں کو تشدد کا نشانہ بناتےتھے۔ انہوں نے6 مہینے تک تہار جیل میں مجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا
لیفٹیننٹ کرنل سجاد اختر ملک (ریٹائرڈ) نے بتایا کہ پہلے 2 ہفتوں تک مجھے ڈیتھ سیل میں قید رکھا، جنوری کی شدید سردی میں وہاں اذیت برداشت کرتا رہا۔ انہوں نے مجھے بار بار پیشکش کی کہ اگر آپ تعاون کریں تو ہم آپ کے گھر والوں تک پیغام پہنچا دیں گے۔ چھ مہینے تک میرے خاندان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ میں زندہ ہوں یامرچکا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ میں مشکل وقت میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔ پاکستان کے دفاع کیلئےپاک فوج کے غازیوں کی جانفشانی اور شجاعت بھری داستان کبھی فراموش نہیں کی جا سکے گی۔