ویب ڈیسک : ایپل کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کے باوجود انڈونیشیا نے اندرون ملک آئی فون 16 کی فروخت کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
یادرہےانڈونیشیا نے اکتوبر میں آئی فون 16 ماڈل کی مارکیٹنگ اور فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ ایپل کمپنی مقامی سرمایہ کاری کے ضوابط کو پورا کرنے میں ناکام رہی تھی اس کی ایک اہم شق آئی فون کے 40% حصوں کی مقامی طور پر تیاری تھی ۔
انڈونیشیا کے سرمایہ کاری کے وزیر روزان روزلانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایپل بٹام جزیرے پر ایئر ٹیگ ( ایپل ٹریکنگ ڈیوائس ) فیکٹری بنانے کے لیے 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ائیر ٹیگ اب بھی مقامی طور پر تیار کردہ آئی فون کے حصے کے طور پر شمار نہیں کیا جائے گا۔ ۔
انڈونیشیا کےوزیر برائے صنعت اگس گومیوانگ کارتاسمیتا نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا، "ایئر ٹیگ فون کےلوازمات میں سے ایک ہے، نہ کہ ایک جزو یا گیجٹس کا حصہ۔"
"اگر ایپل آئی فون 16 کو جلد از جلد فروخت کرنا چاہتا ہے تو گیند ان کے ہاتھ میں ہے؛ براہ کرم فوری طور پر ہماری جوابی تجویز کا جواب دیں۔"
ایپل نے پہلے آئی فون 16 کی فروخت پر پابندی ہٹانے کے لیے انڈونیشیا میں اپنی سرمایہ کاری کو 100 ملین ڈالر تک بڑھانے کی پیشکش کی تھی، لیکن انڈونیشیا کی حکومت نے نومبر میں اس تجویز سے انکار کر دیا۔
فروخت پر پابندی کے باوجود انڈونیشیا میں آئی فون 16 کے نئے ماڈل کے تقریباً 9,000 یونٹ اس طرح ملک میں موجود ہیں۔
یادرہےانڈونیشیا نے بھی مقامی طور 40 فیصد پرزوں کی تیاری کی شرط پوری نہ کرنے پر گوگل پکسل فونز کی فروخت پر پابندی لگا لگا رکھی ہے اورپابندی کے باوجود گزشتہ سال تقریباً 22,000 گوگل پکسل فونز ملک میں داخل ہوئے۔