ویب ڈیسک: سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کانگریس کی لائبریرین کارلا ہیڈن کو ان کے عہدے سے اچانک برطرف کر دیا، جسے امریکی حکومت کے ان اداروں سے "مخالفین" کو ہٹانے کی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ اطلاع ایک ای میل کے ذریعے دی گئی جو وائٹ ہاؤس کے "پریذیڈنشل پرسنل آفس" کی جانب سے موصول ہوئی۔
اس میں لکھا گیا:"کارلا، صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا عہدہ بطور لائبریرین آف کانگریس فی الفور ختم کیا جا رہا ہے۔ آپ کی خدمات کا شکریہ۔"
پہلی سیاہ فام خاتون لائبریرین پر "بچوں کو ترغیب دینے" کا الزام
کارلا ہیڈن، جنہیں 2016 میں سینیٹ نے اس عہدے کے لیے منظور کیا تھا، کانگریس کی تاریخ میں پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام شخصیت تھیں جو اس منصب پر فائز ہوئیں۔ ان کی دس سالہ مدت آئندہ سال ختم ہونا تھی۔
ایک دائیں بازو کی تنظیم "امریکن اکاؤنٹیبیلٹی فاؤنڈیشن" نے ان سمیت دیگر لائبریری افسران پر " ریڈیکل مواد" اور مبینہ طور پر ٹرمپ مخالف کتابوں کے فروغ کا الزام عائد کیا۔ تنظیم نے جمعرات کو ایک پوسٹ میں لکھا:"کارلا ہیڈن بیدار سوچ (woke) رکھتی ہیں، اینٹی ٹرمپ ہیں اور بچوں کو 'ٹرانس' بننے کی ترغیب دیتی ہیں. اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں ہٹایا جائے!"
کانگریس میں شدید غصہ
اس اچانک فیصلے پر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے اسے "شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا:"کافی ہو چکا! ڈاکٹر ہیڈن ایک رہنما، اسکالر اور اعلیٰ درجے کی عوامی خدمت گزار ہیں۔"
ایوان نمائندگان میں اپروپریئیشنز کمیٹی کی سربراہ روزا ڈی لورو نے کہا:"انہیں بے رحمی سے برطرف کیا گیا۔ ہم اس اقدام کی مکمل وضاحت چاہتے ہیں۔"
نایاب خزانے، قومی ورثہ کی محافظ
کانگریس کی لائبریری، جو امریکی دارالحکومت کے اہم ترین اداروں میں شمار ہوتی ہے، میں دو درجن صدور اور درجنوں سپریم کورٹ ججوں کے کاغذات محفوظ ہیں۔ یہاں نایاب کتابیں، تصاویر، موسیقی اور دیگر تاریخی خزانے بھی رکھے گئے ہیں — ان میں وہ بانسری بھی شامل ہے جسے صدر جیمز میڈیسن نے استعمال کیا تھا، اور جسے مشہور گلوکارہ لِزو نے 2022 میں کارلا ہیڈن کی دعوت پر بجایا تھا۔
ڈیموکریٹس کی ستائش، آئندہ کا لائحہ عمل
ریپریزنٹیٹو ہاکیم جیفریز نے کہا:"ڈاکٹر ہیڈن نے لائبریری کو جدید بنانے، دیہی علاقوں میں خدمات پہنچانے اور علم عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔"
"ٹرمپ کا یہ اقدام صرف کتابوں پر پابندی کی کوشش نہیں بلکہ تاریخ مٹانے اور قومی اداروں کو تباہ کرنے کا تسلسل ہے۔ لیکن جلد یا بدیر، اس کا احتساب ضرور ہو گا۔"
اب تک کی اطلاعات کے مطابق، رابرٹ نیولن نے بطور عبوری لائبریرین آف کانگریس عہدہ سنبھال لیا ہے۔