ویب ڈیسک: دنیا بھر میں طب اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ سائنسدانوں نے انسانی جسم میں نصب کیے جانے والے کمپیوٹر چِپس کے ذریعے بینائی کی جزوی بحالی ممکن بنا دی ہے۔
ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق یہ انقلابی پیش رفت سائنس اور طب کے ملاپ کا نتیجہ ہے، جس کے تحت خصوصی چِپس کھوئی ہوئی بصارت کو جزوی طور پر بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں 87 سالہ فرانسیسی خاتون ایلس شارٹون کی مثال پیش کی گئی ہے، جو عمر سے متعلق آنکھوں کی بیماری ایج ریلیٹڈ میکولر ڈی جنریشن (AMD) کے باعث اپنی مرکزی بینائی سے محروم ہو چکی تھیں۔
امریکی شہر سان فرانسسکو میں قائم کمپنی سائنس کارپ (Science Corp) نے اس مقصد کے لیے “پریما (Prima)” نامی ایک تجرباتی ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جس کے تحت ریٹینا کے متاثرہ حصے پر ایک چھوٹا سا مائیکرو چِپ نصب کیا جاتا ہے۔
یہ چِپ بینائی سے محروم مریضوں کے دماغ کو بصری سگنلز بھیجنے میں مدد دیتا ہے، جس کے ذریعے وہ دوبارہ روشنی اور اشکال کا احساس کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں اندھے پن کے علاج میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔