ویب ڈیسک:اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ وہ بحرین سے اسلام آباد پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا، اپنے بیان میں کہامجھے 2 بار اسرائیلی جج کے سامنے پیش کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد نے وطن واپس پہنچتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 2 سال سے غزہ میں نسل کشی ہورہی ہے، فلسطین میں 25 ہزار بچے معزور ہوچکے ہیں۔
مشتاق احمد نے بتایا کہ صمود فلوٹیلا کے شرکا میں 80 فیصد غیر مسلم تھے، ہم کیسے مسلمان ہیں جو خاموش ہیں، اسرائیل اور نیتن یاہو دہشت گرد ہے، ہم پر 20 حملے ہوئے۔
سابق سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ مجھے 2 بار اسرائیلی جج کے سامنے پیش کیا گیا، اسرائیل کو نہیں مانتا، پاسپورٹ پر اسرائیل کی مہر نہیں لگی۔
واضح رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلاکے قافلے میں شامل تھے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والی کشتیوں کے ایک فلوٹیلا کو روک کر مشتاق احمد سمیت متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، مشتاق احمد کی رہائی بین الاقوامی سفارتی کوششوں اور اردن و پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔