ویب ڈیسک:محبت کی ایک اور داستان سامنے آگئی، 12 ویں جماعت کے طالب علم کی محبت میں گرفتار 3 بچوں کی ماں نے اُس سے شادی کرلی، واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ میں پیش آیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ امروہہ کے ایک مندر میں پیش آیا جہاں خاتون نے ہندو مذہب اختیار کر کے نوجوان طالب علم سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا، 30 سالہ خاتون کے پہلے ہی 3 بچے ہیں۔
مقامی علاقہ کے ایک افسر اس بات کی تصدیق کرتے ہوئےبتایا کہ شادی کرنے کے لئے خاتون نےاپنا پرانا نام شبنم چھوڑ کر نیا نام شیوانی رکھ لیا، شبنم اس سے قبل دو مرتبہ شادی کر چکی ہے اور والدین کا سایہ بھی اس کے سر پر نہیں ہے۔
بات جیسے ہی پولیس تک پہنچی تو تحقیقات کا آغاز کردیا کہیں دباؤ میں آکر لڑکے یا خاتون نے شادی تو نہیں کی، پولیس کا کہنا تھا کہ معاملے کا باغور جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اب تک کسی بھی فریق کی طرف سے کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے۔
افسران کے مطابق شبنم نے اپنی پہلی شادی میرٹھ میں کی تھی جو بعد ازاں طلاق پر ختم ہو گئی تھی، جبکہ دوسری شادی اس نے توفیق نامی شخص سے کی جو گاؤں سیداں والی کا رہائشی ہے، توفیق ایک حادثے کے باعث 2011ء میں معذور ہو چکا تھا۔
شیوانی نے کچھ عرصہ قبل 12 ویں جماعت کے طالب علم سے تعلقات استوار کیے اور بالآخر توفیق سے علیحدگی اختیار کر کے ہندو مذہب اپنا لیا۔
30 سالہ خاتون سے شادی کرنے پر لڑکے کے والد کا کہنا تھا وہ اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش ہیں دونوں راضی ہیں تو خاندان بھی ان کے ساتھ ہے، ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ دونوں خوش حال زندگی گزاریں۔