اے آئی کی مدد سے کینسر کی جلد تشخیص کی نئی امید، ورچوئل ماڈل تیار

اے آئی کی مدد سے کینسر کی جلد تشخیص کی نئی امید، ورچوئل ماڈل تیار
کیپشن: اے آئی کی مدد سے کینسر کی جلد تشخیص کی نئی امید، ورچوئل ماڈل تیار

ویب ڈیسک: کووڈ-19 کے دوران تشخیصی ٹیکنالوجی میں آنے والی پیش رفت کے بعد اب مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کو کینسر کی جلد اور مؤثر تشخیص کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

محققین نے اے آئی پر مبنی ایک جدید ورچوئل ماڈل تیار کیا ہے، جو مستقبل میں کینسر کی بروقت تشخیص اور ہر مریض کے لیے موزوں علاج کے انتخاب میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت کے اندرا پرستھ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (IIIT-Delhi) میں اختراع، تحقیق اور ترقی کے ایسوسی ایٹ ڈین دیبارکا سین گپتا اور ان کی ٹیم مصنوعی ذہانت اور جینومکس کو یکجا کرتے ہوئے ایسے جدید نظام پر کام کر رہی ہے، جو کینسر کی ابتدائی علامات کی نشاندہی، ٹیومر کے رویے کے تجزیے اور ذاتی نوعیت کے علاج کی منصوبہ بندی میں ڈاکٹروں کی مدد کرے گا۔

محققین کے مطابق کینسر کو محض ایک بیماری یا جینیاتی تبدیلی کے بجائے ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مالیکیولر بایولوجی، جینومکس، سنگل سیل تجزیہ، مائیکروفلوئیڈکس اور مصنوعی ذہانت کو یکجا کیا گیا ہے۔

دیبارکا سین گپتا کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کا بنیادی مقصد خون، ٹشوز اور دیگر حیاتیاتی نمونوں میں موجود کینسر کے انتہائی معمولی اشاروں کو بروقت شناخت کرنا اور انہیں ایسی طبی معلومات میں تبدیل کرنا ہے، جنہیں ڈاکٹر علاج کے دوران مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت ہزاروں جینز، مختلف اقسام کے خلیات اور مریضوں کے طبی ریکارڈز کا بیک وقت تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے ذریعے ایسے نمونے (پیٹرنز) سامنے آتے ہیں جن کی روایتی طریقوں سے شناخت انتہائی مشکل ہوتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کی اہم کامیابیوں میں پلیٹ لیٹ آر این اے پر مبنی 11 جینز کا خون کا ایک نیا ٹیسٹ بھی شامل ہے، جو مستقبل میں مختلف اقسام کے کینسر کی کم لاگت اور تیز رفتار اسکریننگ کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

محققین کے مطابق اس ٹیسٹ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے مہنگی جینوم سیکوینسنگ مشینوں کے بجائے آر ٹی-کیو پی سی آر (RT-qPCR) مشینوں پر انجام دیا جا سکتا ہے، جو کووڈ-19 وبا کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی تھیں اور اب بھی متعدد مالیکیولر لیبارٹریوں میں دستیاب ہیں۔

تحقیقی ٹیم ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر میں خون کے اندر گردش کرنے والے انتہائی نایاب ٹیومر خلیات کی شناخت پر بھی کام کر رہی ہے، تاکہ بیماری کی جلد تشخیص اور علاج کے امکانات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

Watch Live Public News