ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، جن کا آغاز ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے مبینہ طور پر مار گرائے جانے کے بعد کیا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اس واقعے کا جواب دینا انتہائی ضروری ہے۔ ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ہم اس کا جواب دے رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ردِعمل سخت اور طاقتور ہونا چاہیے، اور اس وقت یہی کیا جا رہا ہے۔‘‘
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی فوجی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم انہوں نے آپریشن کی نوعیت، اہداف یا مقام کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس سے قبل اپنے ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران نے امریکی فوج کے جدید اپاچی ہیلی کاپٹروں میں سے ایک کو مار گرایا، جس پر امریکہ کو مؤثر جواب دینا چاہیے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذکورہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے اوپر معمول کی گشت کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی صدر کے حالیہ بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔