ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے بعد 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 68 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 88.97 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز برینٹ خام تیل سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوا تھا، جبکہ امریکی خام تیل مئی کے اختتام کے بعد اپنی کم ترین سطح تک گر گیا تھا، تاہم تازہ کشیدگی کے بعد مارکیٹ کا رجحان دوبارہ اوپر کی جانب مڑ گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایران کی جانب سے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے اور اس کے بعد امریکا کے فضائی حملے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ بعد ازاں ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات، خصوصاً پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔