ویب ڈیسک: صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک والد نے اپنی بیٹی کو مبینہ طور پر ونی ہونے سے بچانے کے لیے خودکشی کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس معاملے سے متعلق ڈی آئی خان کے تھانہ پہاڑپور میں سرکاری مدعیت میں درج ہونے والی ایک ایف آئی آر کے مطابق گاؤں بگوانی شمالی کے علاقے میں ونی ہونے والی ایک 13 سالہ بچی کے والد نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔
عادل چھ بیٹیوں کا والد اور حجام کا کام کرتا تھا۔ متوفی عادل نے خودکشی سے پہلے ونی کے واقعہ پر آڈیو پیغام ریکارڈ کیا تھا۔ آڈیو پیغام میں ملزمان کے نام اور مکمل واقعہ بیان کیا تھا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مرکزی ملزم اور عرائض نویس (پنچایت کا فیصلہ لکھنے والے) کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ’واقعے میں ملوث دیگر ملزمان بھی جلد پولیس کی حراست میں ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ ونی کی رسم کے تحت پاکستان کے بعض قبائل میں پنچایت بطور سزا کسی کی بیٹی، بہن کی جبری شادی کا حکم دیتی ہے اور اس لڑکی کو رات کی تاریکی میں گھر سے رخصت کر دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر عادل کا پیغام بھی زیر گردش ہے جو انھوں نے خود کو ہلاک کرنے سے قبل ریکارڈ کیا۔ یاد رہے کہ پولیس نے سوشل میڈیا پر یہ آڈیو پیغام وائرل ہونے کے بعد ہی اپنی مدعیت میں اس مقدمے کی ایف آئی آر درج کی ہے۔
اس آڈیو پیغام میں موجود شخص بتاتا ہے کہ ’میرا نام عادل ہے، میں پیشے سے نائی ہوں۔ میرے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے۔‘
’مجھے زبردستی اٹھا کر لے گئے، بیان حلفی پر دستخط کروائے گئے۔ مجھ پر زبردستی کا فیصلہ تھونپا گیا۔‘

اس کے بعد آڈیو پیغام میں روتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ’اب میرے بچوں کے ماموں اور چچا جانیں۔ میں اپنی بیٹی پر قربان ہو رہا ہوں۔ میری بیٹی بچ جائے، میں قربان ہو جاؤں تو خیر ہے۔ اب یہ حرام موت ہے یا جو بھی ہے۔ خدا حافظ۔‘
پاکستان میں ونی (جسے سوارہ بھی کہا جاتا ہے) کے خلاف قوانین موجود ہیں جو پولیس کی جانب سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 310 اے (سزا کے طور پر لڑکی کو ونی کرنا) شامل ہے۔ اس کے تحت ملزمان کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس نے اس مقدمے میں دفعہ 322 بھی شامل کی ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ایک شادی کی تقریب کے دوران عادل کا بھانجا اس کیس کے ملزم کی بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر ’نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔‘
یہ معاملہ جرگے کے سامنے آیا اور عادل کے بھانجے پر چھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تاہم مرکزی ملزم نے عادل پر دباؤ ڈالا کہ ’میری بیٹی کی عزت آپ کے گھر میں خراب ہوئی ہے۔‘
ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق اس کے بعد مقامی لوگوں کی ایک پنچایت نے ’عادل کو بُلا کر زبردستی اس کی 13 سالہ بیٹی کو ونی کرنے کا بیان تحریر کروایا۔‘
پولیس کے مطابق ’رسم و رواج کے مطابق عادل کی بیٹی کی مرکزی ملزم کے بیٹے سے منگنی کر کے جلد نکاح، اور پھر رخصتی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔‘
خیبر پختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ ونی کے اس کیس اور وائرل ہونے والے وائس نوٹ پر انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا نے فوری نوٹس لیا اور متعلقہ پولیس حکام کو جلد از جلد ملوث ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس پر فوری کارروائی کرتے ہویے ملزمان کو ٹریس کیا گیا اور اس سلسلے میں مارے گئے ایک چھاپے میں کمسن بچی کو ونی کرنے والے مرکزی ملزم اور عرائص نویس کو گرفتار کیا ہے۔

ایس پی پہاڑپور گوہر خان کا کہنا تھا کہ متاثرہ کمسن بچی کو بازیاب کر کے ورثا کے حوالے کیا گیا ہے۔