چیمپئنزٹرافی اختتامی تقریب: نظرانداز کرنے پر PCB کااظہاربرہمی،ICCکاردعمل آگیا

چیمپئنزٹرافی اختتامی تقریب: نظرانداز کرنے پر PCB کااظہاربرہمی،ICCکاردعمل آگیا
کیپشن: چیمپئنزٹرافی اختتامی تقریب: نظرانداز کرنے پر PCB کاICCکو خط لکھنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: (شکیل خٹک) آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کی اختتامی تقریب میں میزبان پاکستان کو نظر انداز کرنے پر پی سی بی حکام سخت برہم ہیں۔ جس کے بعد اب معاملے پر آئی سی سی کا ردعمل بھی آگیا ہے۔ 

دبئی میں کھیلے گئے آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل ختم ہونے پر ٹرافی اور دوسرے ایوارڈز دینے کی تقریب ہوئی جس میں آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ، بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر راجربینی، سیکرٹری بی سی سی آئی اور نیوزی لیند کرکٹ بورڈ کے راجر ٹوز موجود تھے۔

حیران کن طور پر میزبان پی سی بی کے نمائندے کو آئی سی سی نے مدعو نہیں کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سمیر احمد سید وہاں موجود تھے لیکن آئی سی سی نے ان کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا۔

پی سی بی حکام اس حوالے سے باقاعدہ طور پر آئی سی سی کو خط لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ان سے وضاحت مانگی جائے کہ میزبان بورڈ کو نظر انداز کیوں کیا گیا۔

پی سی بی سربراہ محسن نقوی کی فائنل پر عدم دستیابی کے بارے میں آئی سی سی کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ سمیر احمد سید فائنل پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

اختتامی تقریب میں اسٹیج پر کس کو مدعو کرنا ہے، اس کا فیصلہ آئی سی سی حکام نے ہی کرنا ہوتا ہے۔

ماضی میں آئی سی سی ایونٹس پر میزبان ملک کی اسٹیج پر نمائندگی ہمیشہ ہوتی رہی ہے مگر حیران کن طور پر دبئی میں اس روایت کی پاسداری نہیں کی گئی جس پر پی سی بی حکام کے ساتھ کرکٹ فینز بھی آئی سی سی کے اس رویے پر سخت ناراض ہیں۔

پریس ٹرسٹ انڈیا کی رپورٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ’سمیر احمد اور آئی سی سی کے عہدیداروں کے درمیان رابطوں میں غلطی کے باعث ایسا ہوا۔‘
دوسری جانب انڈین میڈیا اس بات کا دعویٰ کر رہا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی ملکی سیاسی معاملات کی وجہ سے تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
انڈیا ٹودے نے دعویٰ کیا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی جو کے وفاقی وزیرداخلہ بھی ہیں، وہ اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کے باعث دبئی نہیں جا سکے۔
اختتامی تقریب کے لیے مہمانوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کرتی ہے لہٰذا یہ بات ابھی تک سامنے نہیں آ سکی کہ پی سی بی کی نمائندگی کسی غلطی کی وجہ سے نہیں ہو سکی یا ایسا کسی مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے:

معاملہ سوشل میڈیا پر بھی گرم ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے طرح طرح کی آرا سامنے آرہی ہیں ایک سوشل میڈیا صارف نے دعوی کیا ہے کہ محسن نقوی نے تقریب میں جانا تھا مگر خرابی طبعیت کی وجہ سے نہیں جاسکے۔

آئی سی سی کا ردعمل:

تنازعہ کے بعد اس معاملے پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی طرف سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ 
آئی سی سی کے ترجمان نے کہا، " پی سی بی چیف محسن نقوی  وہاں نہیں موجود تھے اور انہوں نے دبئی کا سفر نہیں کیا۔ میرے  علم کے مطابق بورڈ کے افسروں کو ہی پریزنٹیشن تقریب کے لیے بلایا جا سکتا تھا۔ پی سی بی سے کوئی بھی افسر اس کے لیے موجود نہیں تھا۔ وہ ( پی سی بی) میزبان تھے، انہیں وہاں ہونا چاہیے تھا۔"

Watch Live Public News

اسپورٹس رپورٹر

 محمد شکیل خان ایک نوجوان اسپورٹس رپورٹر ہیں جو نہ صرف فیلڈ میں متحرک ہیں بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے اسپورٹس ایونٹس اور خصوصا کرکٹ کے حوالے سے اپنے قارئین کو باخبر رکھا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔