27 ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

27 ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

(ویب ڈیسک )27 ویں آئینی ترمیم  پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں ستائیسویں آئینی ترمیمی بل 2025 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔رپورٹ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پیش کی ہے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمی بل میں کافی تبدیلیاں ہوئی ہیں ،کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت بنانے کے لیے منظور کیا ہے،جو آئینی عدالت بنے گی اس میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے غور و خوض کے بعد بہت ساری تبدیلیاں کی ہیں،کمیٹی نے تجویز دی کہ ہائی کورٹ کے جج کو 7 سے 5 سال کی مدت ملازمت رکھنے والے جج کو آئینی عدالت کا جج لگایا جائے گا۔کمیٹی نے ایک ٹیکنوکریٹ کو شامل کیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سو موٹو پاور کو رکھا ہے لیکن عمل اس وقت ہوگا جب کوئی درخواست دے گا۔پہلے سپریم کورٹ کے پاس سو موٹو پاور تھیں ،اب بھی ہم نے سوموٹو پاور تو موجود ہے لیکن اس کو محدود کر دیا گیا کہ درخواست سے۔آئینی عدالت پہلے درخواست کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے 99 آرٹیکل کے مطابق چھ ماہ تک انٹیرم کا آرڈر رہتا تھا جس کی وجہ سے بے اندازہ بیک لاک تھا ۔اب کمیٹی نے چھ مہینے مزید دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال میں سٹے وکیٹ ہو جائیگا ۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ  ٹرانسفر آف ججز کے حوالے سے پہلے دو ججز کی مشاورت درکار ہوتی تھی ،ابھی کمیٹی نے بل کے اندر اس ٹرانسفر کا طریقہ تبدیل کر دیا ہے ،اب جج کی ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ذریعے ہو گی۔کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر کوئی جج تبادلے پر اعتراض کرتا ہے تو وہ صرف ریٹائر نہیں ہو گا بلکہ اس کے خلاف ریفرنس دائر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ  بل میں صدر مملکت کا لائف لانگ استثنی دینے کا ذکر تھا ،کمیٹی نے تبدیلی لا کر اس میں صدر مملکت کے اگر ریٹائرمنٹ کے بعد الیکشن لر کر پبلک آفس ہولڈر بن جاتا تو اسے اس دورانیہ میں یہ استثنی حاصل نہیں ہو گا۔یہ بڑی تبدیلیاں جو کمیٹی نے پروپوز بل میں لائی ہیں ،اس کے علاؤہ کچھ چھوٹی تبدیلیاں بھی ہیں ،میں کمیٹی میں تعاون کرنے پر تمام کمیٹی ممبران کا شکر گزار ہوں۔

Watch Live Public News