ویب ڈیسک: سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کر دی ہے۔ اکتوبر کے لیے عرب لائٹ خام تیل کی قیمت دبئی/عمان بینچ مارک سے 2.20 ڈالر فی بیرل زیادہ مقرر کی گئی ہے، جو ستمبر کے مقابلے میں 1 ڈالر فی بیرل کم ہے۔
دیگر سعودی تیل کی اقسام کی قیمتوں میں بھی 0.90 سے 1 ڈالر فی بیرل تک کمی کی گئی ہے۔ تیل کے تاجروں کے مطابق، سعودی عرب کا یہ فیصلہ ایشیا، خاص طور پر چین میں کمزور طلب کے خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اگرچہ چین نے رواں سال کے آغاز میں تیل کی درآمدات بڑھائی ہیں، مگر یہ زیادہ تر ذخیرہ اندوزی کے لیے تھیں اور طلب میں حقیقی اضافہ نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں تیل کی طلب 2027 تک بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مستحکم ہو جائے گی۔ اس سال چین کی تیل کی طلب میں صرف 100,000 بیرل یومیہ اضافہ متوقع ہے، جو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (EVs) اور ایل این جی ٹرکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے محدود ہو رہا ہے۔
ریسرچ کے مطابق، 2025 تک الیکٹرک گاڑیاں تقریباً 25 ملین ٹن پیٹرول کی کھپت کم کر دیں گی، جو روزانہ 580,000 بیرل کے برابر ہے۔ تاہم، تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اگست میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت کی شرح میں کمی آئی ہے، جو پچھلے ماہ 12 فیصد تھی اور اب 7.5 فیصد پر آ گئی ہے۔