ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کا آج باضابطہ آغاز ہو رہا ہے، جس کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔
ایرانی وفد کا وفاقی دارالحکومت پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی اس موقع پر موجود تھے۔
Arrival of the delegation of the Islamic Republic of Iran for Islamabad Talks pic.twitter.com/aJYU9cx5t2
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 10, 2026
ذرائع کے مطابق یہ وفد تقریباً ستر افراد پر مشتمل ہے، جس میں چھبیس تکنیکی ماہرین اور مختلف خصوصی کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں، جو معاشی، سلامتی اور سیاسی امور پر اپنی ماہرانہ رائے پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ تئیس ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی وفد کا حصہ ہیں جو مذاکرات کی کوریج کریں گے۔
وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری علی اکبر، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر اور متعدد ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد آنے والے اس وفد کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کو کامیاب بنانا ہے۔
همراهان من در این پرواز#Minab168 pic.twitter.com/xvXmDlSDiF
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026
اس سفر کے دوران ایک جذباتی منظر بھی دیکھنے میں آیا جب ایرانی وفد کے طیارے کی اگلی نشستیں مکمل طور پر خالی چھوڑی گئیں۔ یہ اقدام میناب میں ہونے والی کارروائی میں جاں بحق ہونے والے ایک سو اڑسٹھ بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔
محمد باقر قالیباف نے ان خالی نشستوں کی تصویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ معصوم بچے اس پرواز میں میرے ہم سفر ہیں، جو ایک خاموش یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایران کے اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کو جنگ کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصان کی جانب متوجہ کرنا تھا۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ ان مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو امریکا پر اعتماد نہیں، تاہم اگر امریکا ایرانی حقوق کو تسلیم کرے اور ایک حقیقی معاہدہ پیش کرے تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے۔
امریکی وفد کے ساتھ باضابطہ مذاکرات سے قبل ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جس میں مذاکرات کے طریقہ کار اور ممکنہ شرائط پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اب عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں ایران اور امریکا کے وفود پاکستان کی میزبانی میں ایک ایسے حل کی تلاش کریں گے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو۔