جنرل(ر)فیض حمید سے قبل کن فوجی افسران کا کورٹ مارشل ہوا؟

جنرل(ر)فیض حمید سے قبل کن فوجی افسران کا کورٹ مارشل ہوا؟
کیپشن: جنرل(ر)فیض حمید سے قبل کن فوجی افسران کا کورٹ مارشل ہوا؟

ویب ڈیسک: گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کیجانب سے جاری کردہ بیان میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ پاک فوج میں احتساب کا ایک منظم نظام موجود ہے۔ جس کے تحت اس سے قبل بھی متعدد فوجی افسران کڑے احتساب سے گزر چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جنرل (ر) فیض سے قبل آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف فوجی قانون کے مطابق ضابطے کی کارروائی ہوئی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی 90 کی دہائی میں آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ انہیں 1988 میں بطور ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس تعینات کیا گیا۔

اصغر خان کیس میں ان کا نام آنے کے بعد انہیں آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا تاہم ان کی سیاسی امور میں مبینہ مداخلت کی دوبارہ اطلاعات پر انہیں قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔

اصغر خان کیس میں الزام عائد ہوئے تھے کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل موجود ہیں جو ملکی سیاست میں دخل اندازی کرتے ہیں۔

تاہم سیاسی مداخلت کے الزامات کے برعکس انہیں فروری 2019 میں انڈین خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے ساتھ مشترکہ کتاب لکھنے کے جرم میں فوج نے محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ان کے رینک اور مراعات واپس لے لیے تھے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا تھا۔

لیکن بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کا نام نام ای سی ایل سے نکال دیا تھا۔

جنرل درانی اور جنرل فیض کیخلاف کارروائی میں فرق کیا ہے؟

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق جنرل فیض اور جنرل درانی کے خلاف کارروائی میں فرق یہ تھا کہ جنرل درانی کے خلاف اصغر خان کیس میں سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں اور عدالتیں کارروائی چاہتی تھیں جبکہ جنرل فیض کے خلاف کارروائی فوج خود چاہتی ہے۔

آفیشل سکریٹ ایکٹ 1923 کا سو سال پرانا قانون ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 14 سال قید یا موت کی سزا، جبکہ کم سے کم سزا دو سال قید اور جرمانے کی سزا ہے۔

2019 میں 2 سینئر افسران کا کورٹ مارشل:

فروری 2019 میں دو سینئر افسران کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔ ان میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو جاسوسی کے الزام میں تین مئی، 2019 کو عمر قید کی سزا سنانے کے علاوہ تمام مراعات، پنشن اور جائیداد ضبط کر لی گئی تھی۔

برگیڈیئر رضوان کا غیر ملکی اداروں کے ساتھ روابط کے الزام پر کورٹ مارشل ہوا تھا جس میں انہیں 14 سال کی سزا سنائی گئی۔

میجر جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف سیاچن میں ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کی گئی اور انہیں 30 جولائی، 1995 کو فوج سے برطرف کر کے تمام مراعات واپس لے لی گئیں۔

اسی طرح انجینیئر کرنل شاہد کا شمسی ایئربیس پر جاسوسی کا الزام ثابت ہونے کے بعد کورٹ مارشل ہوا اور انہیں فوج سے نکال دیا گیا۔

میجر جنرل تجمل حسین کا بھی کورٹ مارشل ہوا اور انہیں 1995 میں 14 سال کی سزا ہوئی۔

بغاوت کیس میں 1995 میں بریگیڈیئر مستنصر باللہ اور چار دیگر افسران کا کورٹ مارشل ہوا، انہیں 14 سال کی سزا ہوئی اور تمام مراعات اور پنشن ضبط کر لی گئی۔

کچھ عرصہ قبل سابق کور کمانڈر منگلا ایمن بلال پر سیاسی الزامات لگے لیکن ان کو جبری ریٹائرڈ کیا گیا، اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہوئی۔

فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے الزام میں سابق لیفٹیننٹ کرنل اکبر حسین، میجر( ر) عادل راجہ اور حیدر مہدی کا بھی کورٹ مارشل ہوا اور انہیں 14 سال کی سزا سنائی گئی، اور پاکستان میں ان کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی۔

گذشتہ برس نو مئی کے واقعے میں غفلت برتنے کے الزامات پر تقریباً 15 افسران کے خلاف کارروائی ہوئی جس میں سابق کور کمانڈر لاہور، دو میجر جنرل، پانچ بریگیڈیئر اور کرنل، میجر لیول کے افسران بھی شامل تھے۔

Watch Live Public News