یرغمالی رہانہ کیے تو غزہ سیزفائرہفتے کو ختم ہوجائےگا،ٹرمپ کی دھمکی

یرغمالی رہانہ کیے تو غزہ سیزفائرہفتے کو ختم ہوجائےگا،ٹرمپ کی دھمکی
کیپشن: یرغمالی رہانہ کیے تو غزہ سیزفائرہفتے کو ختم ہوجائےگا،ٹرمپ کی دھمکی

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہفتہ (15 فروری) تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدے کو ختم کر دیا جائےگا۔

تفصیلات کے مطابق انھوں نے حماس کو ہفتہ کے روز دن 12 بجے تک وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک، ایک یا دو، دو کر کے نہیں بلکہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کرنا چاہیے۔

تاہم امریکی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ اُن کا ذاتی خیال ہے اور اس ضمن میں اسرائیل خود اپنا فیصلہ کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اب بھی غزہ میں 76 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں جن میں سے 73 کو سات اکتوبر کے حملے کے بعد اغوا کیا گیا تھا جبکہ بقیہ تین یرغمالی گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے حماس کی قید میں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو قہر ٹوٹ پڑے گا۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے ان کی مراد اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پتہ چل جائے گا اور اُن کو بھی۔ حماس کو پتا چل جائَے گا کہ میرا کیا مطلب ہے۔‘

کینیڈا کو 51ویں ریاست بنانے پرسنجیدہ ہیں:

دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ کہا ہے کہ وہ کینیڈا کو 51 ویں ریاست بنانے کے معاملے پر سنجیدہ ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ "کیا کینیڈا کو ضم کرنے کی بات حقیقی ہے؟" اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ "جی ہاں بالکل۔"

صدر ٹرمپ نے یہ انٹرویو فلوریڈا میں ویک اینڈ پر دیا تھا جو اتوار کو امریکی فٹ بال کے فائنل 'سپر بول' کے دوران نشر کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "کینیڈا کے لیے امریکا کی 51 ویں ریاست بننا بہت بہتر ہو گا کیوں کہ ہم اس کے ساتھ تجارت میں سالانہ 200 ارب ڈالرز کا نقصان اُٹھاتے ہیں اور میں مزید ایسا نہیں ہونے دُوں گا۔"

واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس کی جانب سے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لائی جانی تھی اور اس کے بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید 1900 فلسطینیوں کو رہائی ملنی تھی۔

جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اب تک حماس کی جانب سے 16 اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں 17 مزید یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جانا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق حماس کی قید میں موجود آٹھ اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل معطل:

تین مزید یرغمالیوں کو ہفتہ (15 فروری) کے روز رہا کیا جانا تھا۔ تاہم سوموار کے روز حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل ’اگلی اطلاع تک‘ معطل کر رہے ہیں۔‘

حماس کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی معاہدے کی ’خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر ہوئی ہے، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں انہیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی نہ بنانا‘ شامل ہے۔

حماس کا کہنا کہ ’تحریک ( حماس) نے اپنے وعدوں کا مکمل احترام کیا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اب یرغمالیوں کی رہائی کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد پر ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع کا بیان:

اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’ حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا اعلان جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی ہے۔‘

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’میں نے اسرائیلی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ میں کسی بھی ممکنہ منظرنامے اور کمیونیٹیز (اسرائیلی شہریوں) کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر الرٹ اور ہر سطح پر تیار رہیں۔‘

حماس کے فیصلے پر اقوام متحدہ کی تنقید:

اقوام متحدہ نے حماس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی کے نازک معاہدے کے اپنے مؤقف کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے مطالبے پر عملدرآمد کے لیے زور بڑھتا جا رہا ہے، حماس شاید یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ آیا جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ اور بات چیت کس چیز کے لیے ہو گی؟

اگر صدر ٹرمپ اپنی تجویز کو لے کر سنجیدہ ہیں تو فلسطینی جانتے ہیں کہ علاقے سے ان کی بے دخلی کا کام اسرائیل کرے گا۔ اس کے لیے انھیں عارضی پناہ گاہوں سے محروم رکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔

ایسے میں جب حماس کو یہ لگ رہا ہے کہ انہیں شاید ایک بار پھر جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، وہ یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوں گے کہ یرغمالیوں کو رہا کر کے انہیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب رہائی میں تعطل اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات یرغمالیوں کے دوستوں اور گھر والوں کی بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

حماس کی قید میں موجود ایک یرغمالی کے رشتے دار دودی زلمانووچ کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات کے نتیجے میں یقیناً حماس کو مزید ضدی بنا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ ٹرمپ اس بارے میں کم ہی بولیں۔

Watch Live Public News