(ویب ڈیسک ) ملزمان نے بدترین تشدد کے بعد ملازمہ کو 3 روز تک گھر میں بند رکھا،اقراء کی حالت تشویشناک ہونے پر ملزمان ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
راولپنڈی میں تھانہ وارث خان کے علاقے میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ ، گھریلو ملازمہ پر تشدد کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔
ملزمان نے 12 سالہ اقراء پر آہنی راڈ سے تشدد کیا ۔انہوں نے بدترین تشدد کے بعد ملازمہ کو 3 روز تک گھر میں بند رکھا، بچی کی حالت تشویشناک ہونے پر ملزمان ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
تشدد سے 12 سالہ اقراء کے جسم کے مختلف حصے فریکچر ہوئے، تشدد سے بچی کے ہاتھ پاؤں مڑ گئے اور سر پر گہری چوٹیں آئیں۔
ادھر راولپنڈی کے علاقہ بنی میں کمسن گھریلو ملازمہ اقرا پر تشدد کے واقعہ پر چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے نوٹس لے لیا۔
چیئرپرسن سارہ احمد کی ہدایت پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو راولپنڈی کی ٹیم نےتشدد کا شکار گھریلو ملازمہ سے ملاقات کی۔
چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں 12 سالہ کمسن گھریلو ملازمہ اقراء پر تشدد کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔
تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ ہولی فیملی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالکان کی جانب سے کمسن گھریلو ملازمہ کو تقریباً 12 دن سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کمسن گھریلو ملازمہ کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔
چیئرپرسن سارہ احمد نے مزید کہا کہ تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے تحویل میں لیا جائے گا۔ تشدد کا شکار کمسن بچی کو بیورو کی جانب سے ہرممکن معاونت فراہم کرے گی۔