23 برس بعد خالد شیخ محمد کی عدالت میں پیشی ، اہم پیشرفت سامنے آگئی

khalid sh muhammad appeared in court
کیپشن: khalid sh muhammad appeared in court
سورس: google

ویب ڈیسک : نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اہم منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کی عدالت میں پیشی،  جج کے سامنے اعتراف جرم کرلیا، وزیردفاع لائیڈ آسٹن کے  معاہدے پر صدر بائیڈن حکومت کی اپیل منظور ، عدالتی کارروائی روک دی گئی، کیا اب خالد شیخ محمد کو سزائے موت ملے گی یا معافی   ؟ کئی سوالات کے جواب ملنے باقی ہیں۔

 بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کیوبا میں امریکہ کے گوانتنامو بے بحری اڈے پر دنیا کے  معروف ترین ملزمان میں سے ایک خالد شیخ محمد ایک جنگی عدالت کی سب سے اگلی صف میں بیٹھے خاصے انہماک سے عدالتی کارروائی سن رہے تھے۔
جج نے ان کے وکیل سے پوچھا: ’کیا آپ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ خالد شیخ محمد بغیر کسی رد و بدل یا اعتراض، تمام الزامات کا اعترافِ جرم کرتے ہیں؟‘
وکیل نے جواب دیا ’یوئر آنر، جی بالکل ہم تصدیق کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: نائن الیون : خالد شیخ محمد سے معاہدہ ختم کرانے کیلئے امریکا عدالت پہنچ گیا
عدالت میں بیٹھے 59 برس کے خالد شیخ محمد کی داڑھی پر نارنجی رنگ خاصا نمایاں تھا اور یہاں وہ سر پر پگڑی پہنے، ایک کھلی شرٹ اور ٹراوئزر میں موجود تھے۔ ان کی سنہ 2003 میں حراست کے وقت لی گئی تصویر اور آج کی شبیہ میں مماثلت نہ ہونے کے برابر تھی۔

خالد شیخ محمد پر امریکہ میں 9/11 دہشت گرد حملوں کے مبینہ ماسٹرمائنڈ ہونے کا الزام ہے اور انھوں نے رواں ہفتے اعترافِ جرم کرنا تھا۔
یہ سماعت 9/11 حملوں کے 23 برس بعد ہو رہی تھی جن میں لگ بھگ تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور امریکی حکومت نے ان حملوں کو ’حالیہ تاریخ میں امریکی سرزمین پر ہونے والے سنگین ترین جرم‘ کہا تھا۔لیکن دو روز بعد جب خالد شیخ محمد نے باضابطہ طور پر اپنے فیصلے پر عمل کرنا تھا جو دراصل امریکی حکومت کے وکلا کے ساتھ کیے گئے ایک متنازع معاہدے کا نتیجہ تھا، اس کے برعکس وہ خاموشی سے بیٹھے یہ سنتے رہ گئے کہ جج کی جانب سے ایک فیڈرل اپیلز کورٹ کے فیصلوں کے تحت یہ کارروائی روکی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ساتھ معاہدہ کیو ں منسوخ ہوا؟ اہم وجہ سامنے آگئی
اس حوالے سے یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ ایک تاریخی ہفتہ ہو گا، ایک ایسے مقدمے کے لیے جو ایک دہائی سے تعطل کا شکار ہے۔ اب ایک نئی پیچیدگی کے بعد یہ مقدمہ پھر سے غیر یقینی مستقبل سے گزر رہا ہے۔

اس حوالے سے یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ ایک تاریخی ہفتہ ہو گا، ایک ایسے مقدمے کے لیے جو ایک دہائی سے تعطل کا شکار ہے۔ اب ایک نئی پیچیدگی کے بعد یہ مقدمہ پھر سے غیر یقینی مستقبل سے گزر رہا ہے۔
  خالد شیخ محمد اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے ’9/11 آپریشن کی شروع سے آخر تک‘ تمام منصوبہ بندی کی جس کی شروعات پائلٹس کو کمرشل طیارے اڑانے کی ٹریننگ دینے کے آئیڈیا اور اس منصوبے کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے پاس لے جانے سے ہوئی۔‘
تاہم اب تک انھوں نے ان الزامات کو عدالت کے سامنے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس ہفتے کا تعطل ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی سرکاری وکلا اور خالد شیخ محمد کے وکیلوں کے درمیان ایک معاہدے پر تنازع کھڑا ہوا تھا جس کے تحت انھیں اعترافِ جرم کے بدلے سزائے موت نہیں دی جائے گی۔

 یادرہے گوانتا نامو بے پر ایک وقت میں 800 قیدی ہوا کرتے تھے، اب صرف 15 رہ گئے ہیں۔ یہ یہاں قید افراد کی تاریخ کی کم ترین تعداد ہے۔

باقی بچے 15 قیدیوں میں سے سات پر 9/11 کے حملوں میں ملوث ہونے سمیت جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور دو کو مجرم قرار دے کر سزا بھی سنائی گئی ہے۔لیکن چھ پر ابھی تک کسی بھی جرم کا الزام تک نہیں لگایا گیا ہے اور وہ بھی دوسرے ملک میں منتقلی کے لیے نظرثانی کے اہل بتائے جائے رہے ہیں۔
 ۔سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن نے سن 2020 میں اپنے انتخاب سے قبل گوانتاناموبے کو بند کرنے کی کوشش کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کی مدت کار میں اب صرف چند دن ہی باقی بچے ہیں۔
 

 
 

Watch Live Public News