ویب ڈیسک: ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس (شوگر) دنیا بھر میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک بنتی جا رہی ہے، کیونکہ اس کا اثر سب سے پہلے آنکھوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق شوگر کے مریض زیادہ تر بلڈ شوگر لیول، غذا اور ادویات پر توجہ دیتے ہیں، مگر اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بیماری خاموشی سے آنکھوں کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
ابتدائی علامات ، جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں
ذیابیطس سے متعلق آنکھوں کی بیماری کی ابتدائی علامت دھندلا پن ہے۔ جب بلڈ شوگر کی سطح زیادہ ہو جائے تو آنکھ کا لینز سوجھ جاتا ہے، جس سے نظر دھندلی لگتی ہے۔ یہ دھندلا پن کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی غائب، اسی لیے اکثر لوگ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
رات کے وقت گاڑی چلانے میں دشواری
رنگوں کی چمک میں کمی
آنکھوں میں چھوٹے دھبے یا سائے دکھائی دینا
ماہرین کے مطابق اگر کسی ایک آنکھ کی اچانک بینائی چلی جائے تو یہ ایمرجنسی ہے، اور مریض کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
شوگر اور آنکھوں کی بیماریوں کا تعلق
شوگر کی وجہ سے سب سے عام بیماری ڈائبٹک ریٹینوپیتھی ہے۔ اس میں زیادہ شوگر کی سطح آنکھ کی باریک خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے رفتہ رفتہ بینائی متاثر ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ شوگر کے مریضوں میں ڈائبٹک میکیولر ایڈیما (آنکھ کے وسطی حصے میں سوجن)،گلوکومہ (کالا موتیا)، اورکٹیریکٹ (سفید موتیا)جیسے امراض کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
سالانہ معائنہ کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹرز کے مطابق شوگر سے متاثرہ آنکھ کی بیماری اکثر اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک نقصان زیادہ نہ ہو جائے۔ اس لیے ہر مریض کو سال میں کم از کم ایک بار ڈائلیٹڈ آئی ایگزام کروانا چاہیے، جس میں آنکھ کے پپلس کو قطرے ڈال کر وسیع کیا جاتا ہے تاکہ ریٹینا اور آپٹک نرو کو تفصیل سے دیکھا جا سکے۔
جدید امیجنگ ٹیکنالوجی اب ایسی تبدیلیاں بھی ظاہر کر سکتی ہے جو سالوں پہلے پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں، اس لیے بروقت تشخیص سے بینائی محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔
آنکھوں کی حفاظت کے روزمرہ اقدامات
ماہرین کے مطابق بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنا ہی ریٹینوپیتھی سے بچاؤ کی بنیاد ہے۔ اگر HbA1c لیول 7% سے کم رکھا جائے تو آنکھوں کے نقصان کا خطرہ 60 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل عادات اپنائیں:
بلڈ شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول پر باقاعدہ نظر رکھیں
صحت مند غذا، ورزش اور دوا کا تسلسل برقرار رکھیں
تمباکو نوشی سے پرہیز کریں
تیز سورج یا UV شعاعوں سے آنکھوں کو محفوظ رکھیں
آنکھوں کے لیے مفید غذائیں
آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے غذا میں درج ذیل اجزاء شامل کریں:
لوٹین سے بھرپور سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک
اومیگا-3 فیٹی ایسڈز والی غذائیں جیسے مچھلی، فلیکس سیڈ
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل جیسے کیلے، نارنجی اور بیریاں
یہ غذائیں ریٹینا کے خلیات کو مضبوط کرتی ہیں اور سوجن کم کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر صرف بلڈ شوگر پر اثر نہیں ڈالتی بلکہ یہ بینائی کے لیے خاموش قاتل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ دھندلا نظر آنا یا رات کے وقت دیکھنے میں دشواری ابتدائی اشارے ہیں، لیکن علامات نہ بھی ہوں تو نقصان جاری رہ سکتا ہے۔
اسی لیے سالانہ آنکھوں کا معائنہ ہر ذیابیطس کے مریض کے علاج کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
بروقت تشخیص اور علاج سے آپ اپنی نظر محفوظ رکھ سکتے ہیں — اور زندگی بھر صاف، روشن دنیا دیکھ سکتے ہیں۔