ویب ڈیسک: دو بڑی طاقتوں میں ٹیرف جنگ میں مزید شدت آگئی، امریکا اور چین آمنے سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق چین نے امریکا کے 145 فیصد ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا نے چین پر 20 فیصد لیوی کی مد میں اضافہ کیا، چین نے امریکا کو عالمی اقتصادی نظام کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔
چینی وزارت خارجہ نے دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارتی قوانین پامال نہیں ہونے دیں گے، امریکی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں، بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، واشنگٹن تجارتی جنگ چاہتا ہے تو آخر تک لڑیں گے۔
چین نے ٹرمپ ٹیرف کے ستائے ملکوں کو ساتھ ملانے کی ٹھان لی، چینی صدر شی جن پنگ 14 اپریل سے کمبوڈیا، ویتنام اور ملائیشیا کا دورہ کریں گے، تینوں ملک ٹرمپ ٹیرف سے شدید متاثر ہوئے۔
واضح رہے کہ ویتنام اور چین کے درمیان ریلوے اور دفاعی تعاون سمیت 40 معاہدے متوقع ہیں۔
محصولات کی جنگ میں امریکا خود کو تنہا کر دے گا: چینی صدر
دوسری جانب چینی صدرشی جن پنگ کا دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ٹیرف کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، امریکا یکطرفہ تجارتی پابندیاں لگا کرخود کو الگ کر رہا ہے، دنیا کے خلاف کھڑے ہونے کا نتیجہ اچھا نہیں آئیگا، یورپی یونین مفادات کے تحفظ کیلئے غنڈہ گردی کیخلاف مزاحمت کرے۔
شی جنگ پنگ نے کہا کہ چینی قوم امریکی ٹیرف سے خوفزدہ نہیں، چین بلیک میل نہیں ہوگا، عالمی تبدیلیوں کے باوجود چین ثابت قدم رہے گا، چین کی ترقی کو خود انحصاری اور سخت محنت سے تقویت ملی ہے۔
چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین کبھی بھی دوسروں کے احسانات پر انحصار نہیں کرتا۔