ویب ڈیسک: لاہور کے مشہور سروسز ہسپتال میں پولیس بدمعاش بن گئی ، مریض کے لواحقین نے ڈاکٹرز کے ساتھ جھگڑے کے بعد سب سب انسکپٹر بھائی بلا لیا، تشدد کرنے والے ٹرینی سب انسپکٹر کو معطل کردیا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز نےمقدمہ درج کرکے ٹرینی ایس آئی دانیال کو گرفتار اور معطل کرنے کا حکم دیا۔
سب انسپکٹر پولیس جوانوں کے ساتھ اوپی ڈی میں داخل ہوا اور ڈاکٹرز پر تشدد شروع کردیا ، تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج ’پبلک نیوز ‘ کو موصول ہوگئی، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اوپی ڈی میں داخل ہوئے ، تین پولیس اہلکار وردی میں جبکہ 3 بغیر وردی کے ڈاکٹرز پر تشدد کرتے رہے ۔
ہسپتال انتظامیہ نے لواحقین اور ڈاکٹر کے درمیان ہونے والے معمولی جھگڑے کے بعد صلح کرادی تھی ، تشدد سے سینئر رجسٹرار سمیت 2 ڈاکٹر زخمی ایک کی انگلی ٹوٹ گئی ۔
ذرائع اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے ڈاکٹر ریحان ، ڈاکٹر نادر ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہران پر تشدد کیا گیا ہے ، لواحقین نے پولیس بلا کر عزیزو اقارب سے ڈاکٹر پر تشدد کیا ہے، اس حوالے سے سخت ایکشن لیں گے۔
بعدازاں تشدد کرنے والے ٹرینی سب انسپکٹر کو معطل کردیا گیا، تشدد کرنے والے ٹرینی سب انسپکٹر کے خلاف تھانہ جوہر ٹاؤن میں رپٹ درج کرلی گئی، ایف آئی آر میں بیان کیا گیا کہ ٹرینی سب انسپکٹر کی ڈیوٹی رائیونڈ اجتماع پر تھی، ٹرینی سب انسپکٹر ڈیوٹی چھوڑ کر سروسز ہسپتال پہنچا، ٹرینی سب انسپکٹر نے ہسپتال میں تلخ کلامی اور بدتمیزی کی۔
دوسری جانب جھگڑے میں پولیس اہلکار کے ملوث ہونے پر ڈی آئی جی آپریشنز نےنوٹس کے لیا، ڈی آئی جی آپریشنز نے مقدمہ درج کرتے ہوئےٹرینی ایس آئی دانیال کو گرفتار اور معطل کرنے کا حکم دے دیا۔