ویب ڈیسک: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے دو مقدمات کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے 93 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ۔
فیصلہ کے مطابق عالیہ حمزہ اور صنم جاوید سوشل میڈیا پر انتشار انگیز پوسٹ کرتی رہی ، دونوں ملزمان کے موبائل فونز سے چیزیں ریکور بھی ہوئیں ہیں، صنم جاوید سوشل میڈیا پر کافی اثر رکھتی ہیں، عالیہ حمزہ بھی سینئر پی ٹی آئی کی لیڈر ہیں، دونوں کے پوسٹں اور ویڈیو کلپ یو ایس پی سے پولیس اہلکاروں نے ریکور کیے،دونوں خواتین ملزمان کو ضمنی بیانات کی روشنی میں نامزد کیا گیا۔
عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ ہم اس کو جعلی ریکوری نہیں کہہ سکتے ، گواہوں کے مطابق میاں محمود الرشید موقع پر موجود تھے، میاں محمود الرشید کے خلاف 11 گواہوں نے گواہی دی، گواہوں نے بتایا کہ میاں محمود الرشید نے اپنے پستول سے سیدھی فائرنگ کی،جرح کے دوران ملزم کا پستول ریکور کیا گیا، پراسکیوشن میاں محمود الرشید کو موقع پر موجودگی ثابت نہیں کرسکی۔
عدالت نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے صنم جاوید اور عالیہ حمزہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ، فیصلہ میں کہا گیا کہ ملزمان ضمانت پر تھے پہلے پیش ہوتے رہے، مگر آج فیصلہ سننے کے لیے پیش نہیں ہوئے۔
صنم جاوید اور عالیہ حمزہ کے حتمی بیانات انکے وکیل نے دیے، ایس ایچ او شادمان صنم جاوید اور عالیہ حمزہ کو گرفتار کرکے جیل بھیجے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی لیڈرز کا کہنا ہے کہ نو مئی کو ہم نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ، جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا قانون کے مطابق احتجاج کیا ۔
نو مئی کو پورے ملک کے سرکاری تنصیبات پر حملے کیے گئے، تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پراسکیوشن نے اپنا کیس ثابت کیا ہے۔