ویب ڈیسک: آسیان ریجنل فورم (ARF) کے حالیہ اجلاس میں ایک بار پھر بھارت کو پاکستان مخالف بیانیہ دہرانے پر شدید سفارتی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی وفد نے نہ صرف بھارتی الزامات کو مسترد کیا بلکہ ٹھوس دلائل کے ساتھ بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لایا۔
پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ عمران احمد صدیقی نے کی، جنہوں نے بھارتی وفد کے الزامات کو "آدھے سچ اور فلمی مظلومیت پر مبنی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کلبھوشن یادیو کی مثال دی، جو ایک حاضر سروس بھارتی نیوی افسر ہونے کے باوجود پاکستان میں ریاستی دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا۔
کشمیر، پانی اور انتہاپسندی: بھارتی رویے پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف
عمران صدیقی نے کہا کہ بھارت نے خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا، لیکن اب وہی بھارت اسے اپنا "اٹوٹ انگ" قرار دیتا ہے، جو اس کے بیانیے کا کھلا تضاد ہے۔ انہوں نے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کی بھارتی دھمکیوں کو "کھلی غنڈہ گردی" اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی، آر ایس ایس کی نظریاتی شدت پسندی اور اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم کو بھی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اس مذہبی انتہاپسند ہاتھی کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتے۔"
پاکستان کی مسلسل سفارتی برتری
ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو حقیقت پسندی اپنانی ہوگی، ورنہ اس کے جھوٹ عالمی سطح پر بار بار بےنقاب ہوتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور برکس (BRICS) کے اجلاسوں میں بھی بھارت کو پاکستان کے مضبوط مؤقف کے سامنے پسپائی اختیار کرنی پڑی تھی۔
عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ متاثر
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی واضح، مدلل اور اصولی سفارت کاری بھارت کی تضحیکی حکمت عملی کو مؤثر جواب دے رہی ہے، جس کے باعث عالمی برادری میں بھارت کی ساکھ کو مسلسل دھچکا پہنچ رہا ہے۔