ویب ڈیسک: بھارت کے سابق قومی سلامتی مشیر شیو شنکر مینن نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر مؤثر بیانیہ قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق بھارتی قومی سلامتی مشیر، شیو شنکر نے پہلگام واقع اور آپریشن سندور کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے۔
کرن تھاپر کے انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے شیو شنکر کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت عالمی بیانیہ قائم کرنے میں ناکام رہا،پاکستان نے فوری طور پر واضح ثبوت اور شواہد کے ساتھ بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی،مودی کی سست اور کمزور سفارتی حکمت عملی نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
شیو شنکر نے کہا کہ بھارتی میڈیا کے جذباتی اور سنسنی خیز کوریج نے عالمی برادری میں بھارت کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دیے،مودی سرکار کی "ہر حملہ جنگ ہے" پالیسی خطرناک ہے، جو بھارت کو سخت گیر اور محدود پالیسیوں میں جکڑ دیتی ہے،پاک بھارتی کشیدگی کے دوران مودی سیاسی بیانات، عالمی سطح پر بھارت کی پالیسی کو غیر معتبر بنا دیتے ہیں، بھارت کی پالیسیوں میں وہ ضروری " اسٹریٹیجک ابہام" (strategic ambiguity) موجود نہیں جو مؤثر بازدار (deterrence) کے لیے ضروری ہے۔
شیو شنکر نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی دفاعی حکمت عملی مؤثر بازدار (deterrence) پر مبنی تھی،چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی فوجی قربت بھارت کے کیے ایک مستقل چیلنج ابھر کر سامنے آئی ہے، بھارت پاک چین اتحاد کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا اور مودی کی جانب سے مؤثر منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے۔