ویب ڈیسک: افغانستان کی طالبان حکومت نے شطرنج کے کھیل پر وقتی طور پر پابندی عائد کر دی ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کھیل جوئے کا ذریعہ بن چکا ہے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے تحت کھیلوں کے ادارے کے ترجمان اطل مشوانی نے بیان دیا ہے کہ شطرنج پر اس وقت تک پابندی عائد رہے گی جب تک اس سے متعلق مذہبی تحفظات کا کوئی واضح حل سامنے نہیں آتا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسلامی قوانین کے مطابق شطرنج کو بعض صورتوں میں جوئے کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں اس کھیل کی اجازت دینا مناسب نہیں۔
یاد رہے کہ طالبان حکومت اس سے قبل بھی مختلف کھیلوں پر اسلامی اصولوں کے تحت پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ گزشتہ سال مکس مارشل آرٹس (ایم ایم اے) پر بھی یہ کہہ کر پابندی لگائی گئی تھی کہ یہ کھیل پرتشدد ہے اور اسلامی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔