ویب ڈیسک: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک نے ایپل کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ ایپل نے اپنے ایپ اسٹور میں چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے حق میں ایسی پالیسی بنائی ہے جس سے دیگر ایپس کا مقابلہ "ناممکن" ہوگیا ہے۔
ایپل نے جون 2024 میں چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا تھا، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایپل کسی ایک ایپ کو دوسری پر ترجیح دیتا ہے۔ کئی حریف اے آئی ایپس جیسے ڈیپ سیک اور پرپلکسی بھی ایپ اسٹور کی فہرست میں سرفہرست رہی ہیں۔ بعد میں مسک نے ایپل پر ایک بار پھر تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ کمپنی نے ایکس یا اس کی اے آئی ایپ "گروک" کو "ضروری ایپس" کے سیکشن میں کیوں شامل نہیں کیا۔
مسک کے مطابق "ایکس دنیا کی نمبر 1 نیوز ایپ ہے اور گروک تمام ایپس میں پانچویں نمبر پر ہے۔" اس دوران برطانیہ میں چیٹ جی پی ٹی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی مفت ایپ ہے، گروک تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ ایکس ٹاپ 40 میں بھی شامل نہیں۔ اس پر آلٹ مین نے ایک رپورٹ شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسک نے اپنی ذاتی پوسٹس کو ایکس صارفین کے فیڈ میں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔
مسک اور آلٹ مین کی دشمنی ایک دہائی پرانی ہے، جو اوپن اے آئی کے قیام کے وقت شروع ہوئی۔ مسک کا مؤقف ہے کہ آلٹ مین کی قیادت میں کمپنی نے اپنے اصل اصول چھوڑ دیے، جن میں ٹیکنالوجی کو اوپن سورس رکھنا اور انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرنا شامل تھا۔ 2019 میں کمپنی نے ایک منافع بخش بازو قائم کیا، جسے مسک نے اصل مشن کے خلاف قرار دیا۔ اگرچہ مسک نے 2024 میں اوپن اے آئی کے خلاف دائر مقدمہ واپس لے لیا، لیکن اپریل میں کمپنی نے ان کے خلاف جوابی مقدمہ دائر کیا، الزام لگاتے ہوئے کہ وہ "برے ارادوں" سے کمپنی کی ترقی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فروری میں مسک نے اوپن اے آئی کو 100 ارب ڈالر میں خریدنے کی پیشکش بھی کی تھی، جسے بورڈ نے مسترد کردیا۔